07/31/2021

کیس سائبر کرائم کا، نوٹس انسداد دہشتگردی ونگ کا۔ سینئر صحافی ندیم ملک کو ایف آئی اے نوٹس صحافتی تنظیموں کی مذمت

Islamabad High Court update from July 5, 2021 | English story here.

ایف آئی اے کے سائبرکرائم سیل سے صحافیوں کو نوٹس ملنے پر اعلی عدالتیں سوال اٹھا ہی رہی تھیں کہ اب ایف آئی اے کا انسداد دہشتگردی سیل بھی حرکت میں آ گیا ہے۔ سینیئر صحافی اور نجی ٹیلی ویژن چینل سما ٹی وی کے صدر ندیم ملک کو دو جولائی کے روز وفاقی تحقیقاتی ادارے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ سے ایک نوٹس موصول ہوا جس میں انہیں چھ جولائی کو پیش ہونے کا کہا گیا ہے ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ نوٹس جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں بھیجا گیا ہے اور یہ کیس انسداد سائبر کرائم عدالت میں زیر سماعت ہے انسداد دہشتگردی عدالت میں نہیں ۔ گزشتہ برس 27 جولائی کو انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد اپنے فیصلے میں قرار دے چکی کہ یہ کیس دہشتگردی کا بنتا ہی نہیں ۔ فیصلے کے بعد یہ کیس انسداد سائبر کرائم عدالت منتقل کردیا گیا اور اب اس کی سماعت وہیں ہوتی ہے ایسے میں قانونی ماہرین ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ کے نوٹس کو غیر قانونی قرار دیئے ہیں۔

سینئر قانون دان ، سابق نیب پراسیکیوٹر اور عمران شفیق کیمطابق جب ایک جج نے فیصلہ دے دیا کہ کیس دہشتگردی کا نہیں بنتا تو ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ وہ اس کیس کو خود ہی دیکھتا رہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک صحافی کو ایسا نوٹس جاری کیا ہی نہیں جا سکتا ۔

ندیم ملک کو نوٹس 28 اپریل 2021کو اپنے پروگرام میں جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل سے متعلق کی گئی گفتگو پر بھیجا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ اس پروگرام میں ندیم ملک نے کسی کا بھی نام، مکمل بات بتانے یا کسی الزام سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا تھا کہ وہ بتا نہیں سکتے انہیں دو اہم شخصیات نے کیا کچھ بتایا لیکن ایف آئی اے نے اسی گفتگو کو بنیاد بنا کر طلب کرتے ہوئے سینئر صحافی کو یہ معلومات ایجنسی کو فراہم کرنے کا کہا ہے۔ ندیم ملک کو سیکشن 160کے تحت طلب کیا گیا ہے جس کے تحت عدم پیشی قابل سزا جرم ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایف آئی اے اس طرح کسی صحافی کو زبردستی معلومات فراہمی کے لئے پابند کر سکتی ہے؟ صحافتی تنظیمیں اس حق کو تسلیم نہیں کرتیں اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) نے ایف آئی اے نوٹس پر ایک مذمتی اعلامیہ بھی جاری کر دیا ہے

سیکرٹری پی ایف یو کے شہزادہ ذوالفقار اور سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے اپنے بیان میں ایف آئی اے نوٹس کی مذمت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے نہ صحافی ندیم ملک کے سینئر ہونے کا خیال رکھا نہ ہی ان کے بطور صحافی اس حق کو ملحوظ خاطر رکھا کہ وہ اپنے سورس کا نام بتانے کے پابند نہیں اس لئے یہ نوٹس واپس لیا جائے

No comments

leave a comment