March 5, 2021

کووڈ کے دوران آن لائن کام اور گھریلو زندگی کی ذمہ داریاں اور مشکلات

گھر سے کام کرتے وقت دو دو ذمہ داریاں نبھانا پڑتی ہے۔
گھر پہ انسان کو دفتر والا ماحول کبھی نہیں مل سکتا۔

گلالئی آج خوش ہیں اور صبح سویرے اٹھی ہیں، بالوں کو کنگھی کررہی ہیں اور ساتھ میں اپنی امی کو بھی آوازیں لگارہی ہیں کہ جلدی کریں، کہیں ایسا نہ ہو بغیر ناشتہ کیے سکول جانا پڑے۔ کیونکہ آج سکول کا پہلا دن ہے اور اس کو وقت پر پہنچنا ہے جہاں وہ بچوں کو کلاس میں ہی پڑھائیں گی۔

نوشہرہ کے علاقے اکبرپورہ سے تعلق رکھنے والی گلالئی پشاور کے ایک نجی سکول میں پچھلے دو سال سے پڑھارہی ہیں۔ گلالئی کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کی روک تھام کے پیش نظر دو بار سکولوں کو بند کردیا گیا جس کی وجہ سے ایک طرف طلباء کا کافی وقت ضائع ہوا تو دوسری جانب انکو بھی گھر سے آن کلاسز لینا پڑتی تھی جس کی وجہ سے انکو کئی ایک مشکلات کا سامنا تھا۔

یاد رہے پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس فروری 2020 میں رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد 15مارچ سے تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا تھا، اور بعد ازاں 6 ماہ کی طویل بندش کے بعد 15 ستمبر کو تعلیمی ادارے کھولے گئے تھے۔ وبا کی دوسری لہر کے باعث تعلیمی اداروں کو 26 نومبر کو دوبارہ بند کردیا گیا تھا جو 18 جنوری سے پھر کھول دیئے گئے ہیں۔

اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے گلالئی نے کہا “میں ایک ایسے کمرے میں بیٹھتی تھی جہاں کسی کی آواز نہ آئے اور کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرسکے کیونکہ میں زوم پہ لیکچرز دیتی تھی لیکن اکثر ایسا ہوتا تھا کہ کلاس کے دوران ہی انٹرنیٹ کام کرنا بند کردیتا تھا، اس کے علاوہ طلباء کو سمجھانا بھی مشکل تھا، پتہ نہیں چلتا تھا کہ کسی کو سمجھ آرہی ہے یا نہیں، اور اس کا بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ کوئی واقعی کلاس لے رہا ہے یا صرف آن لائن ہے اورموبائل رکھ کہ چھوڑ دیا ہے، کہیں گیم یا دوسرے کاموں میں مصروف ہوگیا ہے۔’

کرونا وائرس نے انسانوں کی زندگی کو بدل کے رکھ دیا ہے، کووڈ 19 نے جہاں لوگوں کے رہن سہن پر اثر ڈالا ہے وہیں پر کام کے طریقہ کار پر بھی اثر انداز ہوا ہے۔ پہلے لوگ دفاترمیں زیادہ تر وقت گزارتے تھے لیکن اب زیادہ تر دفاتر نے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایات جاری کی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں دنیا کے باقی ممالک کی نسبت ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی عادت نہیں ہے تاہم اب یہاں بھی لوگوں نے گھروں سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔ 

پشاور میں ڈیٹا اویلویٹر کی حیثیت سے کام کرنے والے عماد نے گلالئی کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ گھر اور دفتر کے ماحول میں فرق ہوتا ہے گھر پہ انسان کو دفتر والا ماحول کبھی نہیں مل سکتا اگر ایک آپ گھر سے کام کررہے ہوتے ہیں تو آپکو گھریلو ذمہ داریاں بھی سرانجام دینا ہوتی ہے اور ساتھ میں دفتر کا کام بھی کرنا ہوتا ہے اور دونوں کو ایک ساتھ کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

‘ انسان جب گھر میں ہوتا ہے تو کبھی ایک آواز دیتا ہے کبھی کوئی دوسرا آواز دیتا ہے اس کے علاوہ مہمان بھی آجاتے ہیں یا گھر والے کبھی بازار بھیج دیتے ہیں یا کسی اور جگہ تو ایسے میں ایک شخص دفتری کام کو ویسے سرانجام نہیں دے پاتا جس طرح وہ دفتر کے ماحول میں کرسکتا ہے’ عماد نے بتایا۔

تاہم عماد کا ماننا ہے کہ گھر سے کام کرنے کے فوائد بھی بہت ہیں مثال کے طور پر جب آپ گھر سے کام کررہے ہو تو آپکو دفتر جانا نہیں پڑتا اور دفتر سے واپس گھر نہیں آنا پڑتا جس سے بندے کا کافی وقت بچ جاتا ہے اور وہ وقت کو کام کو دے پاتا ہے۔ اس کے علاوہ گھر پہ کام کرنے سے انسان کے پیسے بھی بچ جاتے ہیں کیونکہ اگر وہ گھر پہ ہوگا تو کرایہ اور خوراک کی مد میں لگنے والے پیسے اس کو بچ ہوجاتے ہیں۔

‘ دفتر میں ایک ہر انسان کا ایک مخصوص وقت ہوتا ہے اور ڈیوٹی ٹائمنگ کے دوران سب کو دفتر میں حاضر ہونا پڑتا ہے جبکہ اگر آپ گھر سے کام کررہے ہو تو اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ دن کے جس وقت آپ کا موڈ اچھا ہو اور کام کرنے کا دل ہو آپ کرسکتے ہو ساتھ میں آپ گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا سکتے ہو، چائے پی سکتے ہو اور رشتہ داروں کے ہاں بھی جاسکتے ہو’ عماد نے پرسکون لہجے میں بتایا۔

رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ایک ارب سے زیادہ افراد اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور وہ وہیں سے اپنے دفتری یا کاروباری امور انجام دے رہے ہیں۔

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سماجی ورکر عامر آفریدی کا خیال ہے کہ گھروں سے کام کرنے کی پالیسی سے ملازمین کو تو فوائد ملے ہیں کیونکہ ایک تو وہ گھر سے سکون سے کام کرسکتے ہیں اور دوسری جانب گھروں سے کام کرنے سے وہ کرونا وائرس سے بھی بچ سکتے ہیں لیکن اس کا زیادہ نقصان عوام کو ہوا ہے۔

پاکستان میں نومبر2020 میں کرونا وائرس کی دوسری لہر میں تیزی آنے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری دفاتر کے غیر ضروری سٹاف اور بیمار ملازمین کو گھر سے کام کی ہدایت کر دی تھی، دفاتر میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور مجمع لگانے سے بھی منع کیا گیا تھا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے عامر آفریدی نے کہا کہ ایسے ملازمین جو سرکاری دفاتر میں کام کرتے ہیں اور ان کو گھروں سے کام کرنے کا کہا گیا تو اس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ دفاتر میں سٹاف کم ہوتا تھا اور سٹاف کی کمی کی وجہ سے عوام کو کو مشکلات کا سامنا رہا۔

محمد رفیق پشاور کے ایک نجی ادارے میں کام کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک گھر سے کام کررہے ہیں کیونکہ ابھی تک کرونا وائرس کے وار جاری ہے۔ گلالئی کی طرح انکو بھی انٹرنیٹ کا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات جب وہ گھر میں کام کرنے بیٹھ جاتے ہیں تو اس وقت انٹر نیٹ صحیح کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے انکا کام صحیح طریقے سے نہیں ہوپاتا اور انکو جو اسائمنٹ جمع کرنا ہوتا ہے تو اس میں بھی تاخیر ہوجاتی ہے۔

محمد رفیق کے مطابق اگرچہ باہر کے ممالک میں زیادہ تر لوگ گھروں سے کام کرتے ہیں تاہم ہمارے ملک میں گھروں سے کام کرنا قدرے مشکل ہے کیونکہ جوائنٹ فیملی سسٹم ہوتا ہے سب لوگ مل جل کررہتے ہیں تو ایسے میں بچے بھی شور کرتے ہیں اور ہر وقت گھر میں ہلہ گلہ رہتا ہے جبکہ دفتر کے کام کے ساتھ گھر کی ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ایک بڑا مسئلہ لوڈشیڈنگ کا بھی ہے دفتر میں تو بجلی کا مسئلہ نہیں ہوتا لیکن گھر میں جب لائٹ چلی جاتی ہے تب بہت مشکلات ہوتی ہے کیونکہ دفتر والے کام مانگتے ہیں لیکن یہاں بجلی نہیں ہوتی جس سے بندہ پریشان ہوجاتا ہے۔

جنوری 2021 کی 25 تاریخ تک پاکستان میں کرونا وائرس سے 11318 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ سرکاری پورٹل کے مطابق مجموعی کیسز 5 لاکھ 34041 تک جاپہنچے ہیں جب کہ فعال کیسز کی تعداد 33820 ہے۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 488903 ہوگئی ہے۔

بلیو وینز نامی این جی او کے ساتھ پچھلے 7 سال سے کام کرنے والے ایوب خان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس لاک ڈاون کی وجہ سے این جی اوز کو بہت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ این جی اوز گراس روٹ لیول پہ کام کرتی ہے تو ایسے میں لوگوں کے ساتھ جب فزیکلی انکی میٹنگز نہیں ہوتی تو اس کے نتائج بھی ویسے نہیں رہتے جس طرح پہلے ہوتے تھے کیونکہ اگر آن لائن میٹنگز وغیرہ کربھی لے تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔

‘ ہمیں جو سب سے بڑا مسئلہ رہا لاک ڈاون کے دوران وہ یہ تھا کہ کمیونٹی تک ہماری رسائی ختم ہوگئی کیونکہ سب کچھ بند ہوگیا تھا اور جن لوگوں کے لیے ہم کام کرتے ہیں جس طرح خواجہ سرا، معذرو افراد اور خواتین ہوگئی تو ان تک نہیں پہنچ پا رہے تھے اس کے علاوہ کچھ پراجیکٹس بھی بند ہوگئے تھے تو کچھ لوگوں کو نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑا’ ایوب خان نے بتایا۔

ایوب خان نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے سب چیزیں ڈیجیٹل ہوگئی ہے اور انکے مشکل ہوگیا ہے کہ آن لائن میٹنگز کا انعقاد کریں کیونکہ ایک تو لوگوں کے پاس موبائل فونز نہیں ہے دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اکثر دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ بھی کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے انکو کافی مشکلات کا سامنا ہے اور آگاہی سیشن اس طرح نہیں لے سکتے جس طرح کووڈ 19 سے پہلے لیتے تھے۔

انٹرنیٹ، بجلی اور باقی مسائل ایک طرف لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ کرونا وائرس کے بعد زندگی یکسر بدل گئی ہے اور کرونا وائرس کے ختم ہونے کے بعد بھی اس کے اثرات کافی وقت تک رہیں گے۔

معاشرتی اقدار پر گہرے نظر رکھنے والے اور پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی کے سینیئر استاد ظفرخان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس نے زندگی کے ہر شعبے کو بدل کے رکھ دیا ہے اور پختون کلچر سمیت زندگی کے ہرشعبہ کو متاثر کرکے رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس نے جہاں سماجی زندگی کو متاثر کیا ہے وہیں پر اس کی وجہ سے کاروبار کا طریقہ کار اور دفتری امور کی انجام دہی بھی بدل گئی ہے، اب لوگ زیادہ تردفتری امور گھر سے سرانجام دے رہے ہیں جبکہ آن لائن خریداری میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ظفرخان کے مطابق کرونا کی وجہ سے لوگوں کے روئیوں اور عادتوں میں بھی واضح فرق آچکا ہے اور سماجی سرگرمیاں بھی کافی تبدیل ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرونا وائرس کا خطرہ اب بھی موجود ہے اور کرونا وائرس ختم ہونے کے بعد بھی اس کے اثرات کافی وقت تک لوگوں کے رہن سہن اور زندگی پر رہیں گے۔

Featured image by Dan Dennis on Unsplash

Written by

Khalida Niaz is a journalist based in Peshawar. She works as executive producer at Tribal News Network. She also writes blogs.

No comments

leave a comment