12/01/2021

پی ٹی اے کے بعد ایف آئی اے اختیارات پر بھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوالات اٹھا دیئے

Islamabad High Court Update from February 1, 2021 | English translation here

کیا پیکا کے تحت ایف آئی اے آئین سے متصادم اختیار استعمال کر سکتا ہے؟ پی ٹی اے کے بعد ایف آئی اے اختیارات پر بھی ہائیکورٹ نے سوالات اٹھا دیئے۔

حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی کنول شوزب کی درخواست پر ایف آئی اے کا پاکستان میں انسداد  الیکٹرانک کرائم سے متعلق  ایکٹ (پیکا ) کے تحت شہری راجہ عبدالرحمان کو نوٹس بھیجے جانے پر عدالت نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے ایک مجاز افسر مقرر کریں جو عدالت میں پیش ہو کر جواب دے۔ عدالت نے اہم قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے وائس چئیرمین پاکستان بار کونسل اور صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو عدالتی معاون مقرر کر دیا ہے۔ فریقین سے رائے لینے کے بعد تشریح کی جائے گی کہ کیا کسی بھی قانون کے تحت آئین کے آرٹیکل 19 میں دی گئی آزادیوں کیخلاف ایف آئی اے کارروائی کر سکتا ہے؟

چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ بار بار ایف آئی اے کی جانب سے ایسے معاملات سامنے آرہے ہیں ، بہتر ہو گا اب اس معاملے پر ایف آئی اے سے جواب طلبی کے ساتھ عدالتی معاونین کی رائے بھی لی جائے تاکہ تشریح ہو سکے آخر وفاقی تحقیقاتی ادارے کا سائبر کرائم ونگ کس حد تک اختیار رکھتا ہے ۔

کنول شوزب کی جانب سے گذشتہ برس 23 ستمبر کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ ان کے پڑوسی عبدالرحمان نے ان کے شوہر کی جھاڑیاں کاٹتے ہوئے تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کیں اور بدنام کرنے کی نیت سے مہم چلائی گئی کہ ہم ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ ایف آئی اے نے درخواست پر شہری کو نوٹس جاری کیا جسے شہری نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کا نوٹس پہلے ہی معطل کر رکھا ہے۔ دوسری جانب شہری عبدالرحمان نے کنول شوزب کیخلاف پولیس تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ کنول شوزب نے ان کی اہلیہ پر تشدد کیا اور دھمکیاں دیں۔ ایک ماتحت عدالت نے کنول شوزب کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم بھی دے دیا تھا جسے کنول شوزب نے بھی ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے دونوں فریقین کو صلح کرنے کی ہدایت کی تھی۔

آج پیر کے روز ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوبارہ کیس کی سماعت کی تو کنول شوزب کے وکلا کی ٹیم سے ایڈوکیٹ قاسم نواز عباسی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ دونوں فریقین میں صلح کے معاملات طے پا چکے ہیں لیکن عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ صرف ایک کیس تک محدود نہیں ، آئے روز ایف آئی اے کے خلاف اس طرح کی شکایات سامنے آرہی ہیں کہ ادارہ  شہریوں کے زاتی جھگڑوں پر بھی کارروائی شروع کر دیتا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے اس معاملے پر پیکا کا سہارا لیا جاتا ہے تو کیوں نہ دیکھ لیا جائے کہ پیکا کس حد تک ایف آئی اے کو اختیار دیتا ہے ۔

عدالت نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیا کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتی معاونت کے لئے ایک مجاز افسر مقرر کریں جو دو ہفتوں کے اندر جواب جمع کرائے ۔ عدالت نے ساتھ ہی قانونی معاملات پر پاکستان بار کونسل کے وائس چئیرمین اور اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سے بھی قانونی رائے طلب کی ہے کہ کیا ایف آئی اے پیکا کے تحت محض اظہار رائے پر بھی کسی کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھتا ہے؟ کیا پیکا کے تحت  ایف آئی اے آئین میں دی گئی آزادیاں بھی سلب کر سکتا ہے؟ عدالتی معاونین اور ایف آئی اے دونوں کو دو ہفتوں کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.