07/31/2021

پیکا کے تحت صحافیوں کو نوٹس ، ایف آئی اے کی جانب سے ہائیکورٹ احکامات کی کھلی خلاف ورزی ، عدالت برہم

Islamabad High Court update from June 25, 2021 | English story here.

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسداد الیکٹرا نک کرائم ایکٹ (پیکا ) کے تحت صحافیوں کونوٹس جاری کرنے کا سلسلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بند نہ کیا ۔ جنگ اخبار کے کالم نویس اور صحافی بلال غوری کو بھی ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا ۔ بلال غوری نے نوٹس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جس پر عدالت نے ایف آئی اے نوٹس معطل کر دیا ۔ ہائیکورٹ نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر 30 جون کو ذاتی حیثیت میں طلب بھی کر لیا ہے ۔

جمعہ کے روز صحافی بلال غوری کی جانب سے ایمان مزاری اور عثمان وڑائچ ایڈووکیٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں پیش ہوئے ۔ ایمان مزاری نے موقف اختیار کیا ایف آئی اے کی جانب سے پیکا ایکٹ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، بلال غوری کو کوئی وجہ بتائے بغیر ایف آئی اے میں طلب کیا گیا اس پر چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت بارہا نشاندہی کر چکی ہے کہ بنیادی حقوق کا خیال رکھا جائے، نوٹس پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ایف آئی اے حکام مسلسل وہی ایکسرسائز دہرا رہے ہیں جس سے منع کیا گیا،ایف آئی اے بار بار عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ۔ عدالت نے کہا ہے کہ ڈائریکٹر سائبر کرائم پیش ہو کر بتائیں کہ 3 نومبر کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جا رہا ؟ خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح کر رکھا ہے کہ ایف آئی اے ٹھوس وجہ بتائے بغیر کبھی کسی کو نوٹس جاری نہیں کرے گا اور ایسا کرنے پر ایف آئی اے حکام کی عدالت میں کئی بار سرزنش کی جا چکی ہے ۔صحافی اسد طور کو بھی ایف آئی اے سے جاری نوٹس مبہم ہونے پر ہی معطل کیا گیا تھا

صحافی بلال غوری نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ وہ عرصہ بیس سال سے صحافت سے منسلک ہیں اور اس دوران چیف نیوز ایڈیٹر ، ایٹو ریل انچارج اور نیوز ایڈیٹر جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری سے انہوں نے صحافتی ایوارڈ بھی وصول کیا ۔ بلال غوری کا کہنا ہے کہ انہیں ایف آئی اے کی جانب سے اکیس جون کو پیش ہونے کیلئے  ایک نوٹس واٹس ایپ پر وصول ہوا جس پر کوئی تاریخ درج تھی نہ ہی  یہ بتایا گیا تھا کہ کس قصور میں انہیں طلب کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ کے ذریعے انہیں ایسا نوٹس بھیجنا ایف آئی اے کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے تاہم انہوں نے اس نوٹس کے جواب میں خط لکھ کر ایف آئی اے سے اپنے خلاف شکایت کی تفصیل طلب کی لیکن ایف آئی اے نے تفصیل فراہم کرنے کے بجائے دوبارہ ایک مبہم نوٹس جاری کرتے  25 جون کو پیش ہونے کی ہدایت کع دی جس کے بعد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا ۔

ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ کو طلب کرتے ہوئے سماعت تیس جون تک ملتوی کر دی ہے ۔ پیکا کے تحت ایف آئی اے اختیار کیخلاف دیگر درخواستیں بھی تیس جون کو ہی مقرر ہیں

No comments

leave a comment