10/22/2021

پیکا کی سیکشن 20 آزادی اظہار رائے سے متصادم قرار، عدالتی معاون کی رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع

English translation here.

عدالتی معاون عدنان رندھاوا ایڈوکیٹ نے قانون کا مکمل جائزہ لیکر سیکشن 20 کالعدم قرار دینے کی سفارش کر دی

اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت سوشل میڈیا سے متعلق کیس میں عدالتی معاون عدنان رندھاوا ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا صارفین کے خلاف ہتک عزت کے قانون کی آئینی حیثیت سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی سیکشن 20 آزادی رائے آزادی صحافت سے متصادم ہے، پیکا کی سیکشن 20 بنیادی آئینی حقوق سے بھی متصادم  ہے،الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی سیکشن 20 کے ذریعے پارلیمان نے آئینی حدود سے تجاوز کیا۔

عدالتی ہدایت پر تیار کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکشن 20 شہریوں،صحافیوں کو آزادی رائے، آزادی صحافت سے محروم کرنے کی کوشش کی ہے،سیکشن 20 نے ایف آئی اے کو آزادی رائے اور آزادی صحافت کے خلاف لا محدود اختیارات دے دیے،ایف آئی اے اختیارات کا غلط استعمال کر سکتی ہے جبکہ آئین میں  اس کی اجازت نہیں،سیکشن 20 نے انگریز کے بنائے ہتک عزت کا قانونی تحفظ بھی واپس لے لئے، پیکا سیکشن 20 کے بعد آزادی رائے کے آئینی حقوق کا استعمال تقریباً ناممکن بنا دیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکشن 20 آرٹیکل 19 میں درج “مناسب پابندیوں” کی حد سے بھی متجاوز ہے اسے کالعدم کرنا مناسب ہے۔ پاکستان کا آئین بھارت کے آئین کے مقابلے میں شہریوں اور صحافیوں کو آزادی رائے کے زیادہ حقوق دیتا ہے،پاکستانی قوانین کا بھارتی قوانین کے ساتھ موازنہ مناسب نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت جمہوریت کی کوئی اچھی مثال نہیں اس لئے اس کیساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

No comments

leave a comment