07/31/2021

پیپلز پارٹی سوشل میڈیا رولز کے ایشو کو پارلیمنٹ میں اٹھائے گی۔ ناز بلوچ

اسلام آباد۔ حکومت کی جانب سے نافذ عمل نئے سوشل میڈیا رولز کو لیکر جہاں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں اور سول سوسائٹی کی طرف سے شدید ردعمل آرہا ہے وہیں پیپلز پارٹی کی ایم این اے ناز بلوچ نے 

نئے نافذ عمل رولز کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ 

ڈی آر ایم سے بات کرتے ہوئے ناز بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ قومی اسمبلی کی  قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پہلے بھی ان رولز پر آواز اٹھاتی رہی ہیں اور اب بھی اس معاملے کو کمیٹی میں لے کر جائیں گی ۔ یہ رولز آزادئ اظہار رائے پر قدغن کے مترادف ہیں آئین کے آرٹیکل 19 کی صریحا خلاف ورزی ہیں اور صارفین کے پرائیویٹ ڈیٹا تک رسائی کسی طرح قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت چاہ رہی ہیں کہ سوشل میڈیا کمپنیز پاکستان میں اپنے دفاتر کھولیں اور ان کو عام صارفین کے ڈیٹا تک رسائی دے دیں۔ یہ صارفین کے پرائیویسی رائٹس کی خلاف ورزی ہے اور کسی کو اس کا حق نہیں ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کا ضابطہ اخلاق ضرور ہونا چاہیے لیکن اس کے لیے پہلے پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے اور سب سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی جانی چاہیے اور وہ مشاورت برائے نام بالکل نہیں ہونی چاہیے۔

ناز بلوچ کے مطابق  فیس بک،  ٹوئیٹر اور یو ٹیوب پاکستان کو زیادہ بہتر رسپانس نہیں دیتے اور بعض دفعہ کوئی انفارمیشن لینے میں مہینوں بھی لگ جاتے ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ اس رسپانس کو بہتر کرنے میں دل چسپی لے اور بہتر ورکنگ ریلیشن شپ بنانے کی کوشش کرے۔

اس سوال پر کہ کیا پیپلز پارٹی ان رولز کے متعلق کوئی لائحہ عمل بنا رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ بطور رکن اسمبلی میں نے پہلے بھی ان رولز پر توجہ دلاؤ نوٹسسز جمع کروا رکھے ہیں اور اب پھر ہم قومی اسمبلی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں اس معاملے کو اٹھائیں گے۔ صارفین کا ڈیٹا بہت پرائیویٹ ہوتا ہے اور ایسے حکومت کو اس ڈیٹا تک فراہمی بہت خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ حکومت کے پاس ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کہ وہ اس ڈیٹا کی حفاظت کر سکتی ہے اور نہ ہی یہ اس حکومت سے ہو پائے گا۔

No comments

leave a comment