09/25/2021

ٹک ٹاک کی بندش ، اسلام آباد ہائیکورٹ پی ٹی اے پر برہم ، سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھی جواب طلب

Islamabad High Court update from August 6, 2021 | English story here.

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کی جانب سے دو عدالتی فیصلوں کو بنیاد بنا کر ٹک ٹاک کی بندش پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے پی ٹی اے کو وفاقی حکومت کیساتھ مشاورت کر کے مستقبل کیلئے ضابطہ کار بنانے اور 23 اگست کو ٹک ٹاک کی بندش سے متعلق مطمئن کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

جمعہ کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے ٹک ٹاک پر بندش کیخلاف شہری کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواستگزار کی جانب سے مریم فرید ایڈوکیٹ جبکہ پی ٹی اے کی جانب سے ایڈوکیٹ منور اقبال دُگل عدالت میں پیش ہوئے ۔ چیف جسسٹس نے پی ٹی اے وکیل سے استفسار کیا کہ کس اختیار کے تحت ٹک ٹاک کو بند کیا گیا ۔ اس پر پی ٹی اے وکیل نے بتایا کہ سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں پیکا کے تحت بند کیاکیا  ہے۔ اس پر چیف جسسٹس  نے پی ٹی اے وکیل کو دونوں فیصلے پڑھنے کا حکم دیا اور ریمارکس دیئے کہ دونوں عدالتوں نے ٹک ٹاک کو مکمل بند کرنے کا نہیں کہا، مکینزم بنانے کی ہدایت کی تھی۔ اکیسویں صدی میں سوشل میڈیا ایپلیکشنز لوگوں کے معاش کا ذریعہ ہیں، پی ٹی اے کیا پاکستان کو باقی دنیا سے کاٹ دینا چاہتا ہے۔  ویڈیوز تو ہر طرح کی یوٹیوب پر بھی ہوتی ہیں، کیا پی ٹی اے یوٹیوب کو بھی بند کرے گا؟؟ اس طرح تو گوگل کو ہی بند کرنا پڑے گا؟

پی ٹی اے وکیل منور اقبال دُگل نے کہا کہ  ٹک ٹاک بھارت میں بھی بند ہے جس پر عدالت نے ایک بار پھر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بھارت نے تو چین کی ایپلیکشن ہونے کی وجہ سے ٹک ٹاک کو بند کیا، کیا اب پی ٹی اے بھارت کیساتھ کھڑا ہو گا؟ کیا آپ پاکستان کا باقی دنیا سے تعلق توڑنا چاہتے ہیں؟ پی ٹی اے بتائے ٹک ٹاک کے فوائد اور نقصانات سے متعلق آج تک کیا ریسرچ کی؟ صرف منفی چیزیں نہ دیکھیں مثبت بھی دیکھیں، آپ ڈیجیٹل دور میں جی رہے ہیں آپ نے پیچھے نہیں آگے جانا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ بہتر ہو گا پی ٹی اے لوگوں کو منفی مواد سے متعلق گائیڈ کرے اور ان کی سوچ کو بدلے ، مستقبل کیلئے تیار رہیں کسی ایپلیکشن کو بند کردینا کوئی حل نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پی ٹی اے کو وفاقی حکومت سے پوچھے بغیر ٹک ٹاک بند نہیں کرنی چاہیے تھی۔

ہائیکورٹ نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے متعلق ضابطہ کار بنانے کیلئے وفاقی حکومت سے مشاورت کی ہدایت کر دی جبکہ سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 اگست کو جواب طلب کر لیا ہے۔ ٹاک ٹاک کی بندش سے متعلق آئندہ سماعت پر ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو مطمئن کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے ۔ کیس کی مزید سماعت 23 اگست کو ہو گی

No comments

leave a comment