November 24, 2020

ٹک ٹاک بین اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

English version of the story here.

اسلام آباد، ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۰۔ حکومت  کی جانب سے سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو بین کئے جانے کے اقدام کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ پیٹیشن دائر ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو سمنز جاری کرتے ہوئے ان سے دریافت کیا ہے کہ اب تک سائبر کرائم قانون کے شِک ۳۷ کے رولز کیوں نوٹیفائی نہیں کئے گئے، اور اس ضمن میں کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی پر پی ٹی اے کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کیوں شروع نا کی جائے۔ عدالت نے پی ایف یو جے کے صدر، پاکستان بار کاوئنسل کے نائب صدر، سئینر صحافی مظہر عباس اور جاوید جبار کو کیس میں ماہرانہ مشورے کے لئے اپوائینٹ کیا ہے تاکہ اضہارِ رائے اور معلومات تک رسائی اور پی ٹی اے کی جانب سے فحاشی کے نام پر انٹرنیٹ  پر موجود مواد پر پاندی لگانے کے معاملے پر ماہرانہ رائے لی جا سکے۔ 

لاہور سے تعلق رکھنے والے محمد اشفاق جٹ جو کہ ایک ایتھلیٹ ہیں،  نے اپنی رِٹ  پٹیشن میں موقف اختیار کیا ہے کہ  ٹک ٹاک پر اس حکومتی بین سے ان کی آن لائن آزادئ رائے کے ساتھ ساتھ ان کے روزگار پر بھی بہت منفی اثرات پڑھ رہے ہیں۔

ڈیجیٹل رائٹس مانیٹر سے بات کرتے ہوئے  اشفاق جٹ کا اپنی پٹیشن کے حوالے سے کہنا تھا کہ وہ عدالت میں اپنی استدعا اس لیے لے کر گئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ آن لائن آزادی ان کا بنیادی حق ہے۔  

اشفاق جٹ پیشے کے لحاظ سے ایک ایتھلیٹ ہیں اور اپنا مارشل آرٹس کا کلب چلانے کے ساتھ ساتھ پاکستان آرمی کی کچھ یونٹس کے ساتھ بھی بطور کک باکسنگ ٹرینر کام کرتے ہیں۔ بطور کک باکسر دو ورلڈ چمپین شپس میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور پورے ساؤتھ ایشیا میں واحد ایتھلیٹ ہیں جو ان ورلڈ مقابلوں میں میڈل جیتے ہیں۔

اشفاق جٹ کا کہنا تھا کہ  کرونا کی وجہ سے ان کے کلب کے معاملات بھی بند تھے تو انہوں نے اس آن لائن پلیٹ فارم کا سہارا لیا جہاں کک باکسنگ کے شوقین لوگ ان کو فالو کرتے ہیں اور یہیں سے کچھ نہ کچھ اضافی آمدن کا ذریعہ بن رہا تھا لیکن اب  حکومتی قدم سے یہ آمدن بھی ختم ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا آن لائن ایپس استعمال کر کے پیسے کما رہی ہے اور ہمارے ہاں اس پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ 

اشفاق کا کہنا ہے کہ ہو حکومت کے اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے کہ ٹک ٹاک بین فحاشی کو ختم کرنے کے لئے موثر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کچھ لوگ ایپ کو ان مقاصد کے لئےاستعال کر بھی رہے ہیں تو کیا اس کا حل یہ ہے کہ ٹک ٹاک کو بند کر دیا جائے؟ اس طرح تو کل کو کوئی کہے گا کہ سارے انٹرنیٹ پر فحاشی ہے تو کیا سارا انٹرنیٹ بند کر دیں گے؟ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ٹک ٹاک سے فحاشی پھیل رہی ہے تو اس کا کوئی بہتر حل بھی ڈھونڈا جا سکتا ہے ۔ کوئی ایسا رپورٹنگ میکنزم بنایا جا سکتا ہے کہ صرف ان لوگوں کو پلیٹ فارم سے ہٹایا کیا جائے جو فحاشی پھیلا رہے ہیں۔

اشفاق جٹ کو امید ہے کہ انہیں عدالت سے انصاف ملے گا اور عدالت ٹک ٹاک پر سے بین ختم کر دے گی۔

پاکستان میں ٹک ٹاک پر۱ اکتوبر کو پابندی لگائی گئی تھی جس کے بعد سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر احتجاج اور بحث دیکھنے کو ملی جس میں تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بین کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مترادف قرار دیا ہے۔  اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لی تھی۔

اشفاق جٹ کی طرف سے یہ پٹیشن ایڈوکیٹ اسامہ خاور نے دائر کی ہے جس میں وزارت اطلاعات ، پی ٹی اےاور حکومت پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment