07/27/2021

قبائلی علاقوں کو تھری جی فور جی سروس ملے گی، شیڈیول تیار ، ہائیکورت نے کیس نمٹا دیا

Islamabad High Court update from June 16, 2021 | English story here.

وفاقی حکومت نے بالآخر قبائلی  علاقوں کو تھری جی فور جی سروس فراہم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے ۔ وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائیلورٹ کو فیصلے سے آگاہ کر دیا جس کے بعد عدالت نے سروس کی عدم فراہمی کیخلاف دائر درخواست نمٹانے کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ حکومت انٹرنیٹ جیسی بنیدی ضرورت فراہم کرنے پر رضا مند ہو گئی ہے ، اس کا مطلب ہے کہ عدالت کے سامنے کی گئی استدعا اور عدالتی ہدایات پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے اس لئے کیس نمٹایا جاتا ہے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئیجز کے طالبعلم کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی تھی۔ وزارت داخلہ کے نمائندے نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ “قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ بحالی کیلئے شیڈول تیار کر لیا گیا ہے جو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو بھی فراہم کر دیا گیا ہے، سروس بحالی کا کام جلد شروع کیا جائے گا اور تمام علاقوں کو بتدریج سال کے اختتام تک سروس فراہم کر دی جائے گی “

عدالت نے اپنے ریمارکس میں قرار دیا کہ انٹرنیٹ ، تھری جی فور جی سروسز دور جدید میں بنیادی ضروریات میں شامل ہیں جن پر تمام شہریوں کا حق ہے ۔ سکیورٹی فورسسز اور عوام کی قربانیوں کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں امن بحال ہوا اور سابق فاٹا کا کے پی کے میں انضمام بھی ہو چکا ، اب وہاں کہ نوجوانوں کو انٹرنیٹ سے محروم رکھنے کا جواز نہیں ۔

قبائلی علاقوں میں مقامی لوگوں کا ایک بڑا مطالبہ موبائل فون اور 3 جی اور 4 جی سروس کی بحالی تھا۔  وزیراعظم عمران خان  اور وزیراعلیٰ کے پی کے نے خود ان علاقوں میں سروس بحالی کا اعلان کیا تھا تاہم حکام کے مطابق کچھ ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کی وجہ سے اس میں تاخیر کا سامنا تھا ۔

دوسری جانب موبائل فون کمپنیوں کا موقف تھا  کہ پی ٹی اے اور وزارت داخلہ کے باقاعدہ احکامات کے بغیر یہ سروسز شروع نہیں کی جا سکتیں۔

عدالت سے رجوع کرنے والے طالبعلم کا موقف تھا کہ کورونا کے دوران جب نظام تعلیمی بڑی حد تک آن لائن ہو چکا ، ایسے میں انٹرنیٹ سے محروم علاقوں میں طلبا اس سہولت سے مستفید نہیں ہو پارہے اور ان کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے

No comments

leave a comment