09/18/2021

صحافی اسد طور کو ایف آئی سے جاری دوسرا نوٹس بھی معطل

Islamabad High Court update from June 2, 2021 | English story here.

اسلام آباد ہائیکورٹ نے حال ہی میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے صحافی اسد طور کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ راولپنڈی کی جانب سے جاری طلبی کا نوٹس معطل کر دیا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ صرف متاثرہ فریق کی درخواست پر ہی نوٹس جاری کر سکتا ہے جبکہ اسد علی طور کیخلاف ایک تیسرے فریق نے الزام لگاتے ہوئے ایف آئی اے کے پاس شکایت درج کروائی کہ انہوں نے ملکی اداروں کو بدنام کیا ہے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران ایف آئی اے کے تفتیشی اور وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے انسداد سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کسی بھی صحافی یا شہری کو طلب کرنے کی تین شرائط بھی بتادیں۔

۔۱ – ایف آئی اے صرف اس وقت کسی شکایت کو زیر غور لا سکتا ہے جب شکایت کرنے والا خود متاثرہ فریق ہو اور اس کی اپنی عزت نفس یا شہرت سوشل میڈیا پر کسی کے تبصرے سے متاثر ہوئی ہو۔

۔۲ – ایف آئی اے شکایت کی بنیادی انکوائری مکمل کئے بغیر بھی نوٹس جاری نہیں کرے گا. نوٹس تب ہی جاری کرے گا جب یہ اطمینان ہوجائے کہ شکایت سے متعلق شواہد بھی موجود ہیں ، شکایات درج کرنے والے فریق کا  بیان بھی پہلے ریکارڈکیا جائے گا

۔۳کسی صحافی یا شہری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نوٹس میں شکایت اور شواہد کی مکمل تفصیل فراہم کرنا ایف آئی کے لئے لازم ہے

ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے پر واضح کیا کہ یہ بنیادی شرائط پوری کئے بغیر جاری ہونے والے نوٹس ہراساں کرنے کے مترادف ہیں ۔۔ ان  کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں ایف آئی اے اپنے اختیارات کس طرح استعمال کر رہا ہے ، پارلیمنٹ نے جو قوانین بنا رکھے ہیں عدالت ان کا احترام کرتی ہے لیکن ان قوانین کو استعمال اس طرح ہونا چاہئے کہ کسی کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں ۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ بلاوجہ کسی کو طلبی کا نوٹس جاری ہونے سے معاشرے میں اس کی شہرت پر برا اثر پڑتا ہے ۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر کو ہدایت کی کہ وہ ایف آئی اے کو گائیڈ کریں کب نوٹس جاری ہوسکتا ہے اور کن حالات میں نوٹس جاری کرنا غیر قانونی ہے ۔ 

صحافی اسد طور کو ایک ماہ کے اندر ایف آئی اےسے دوسرا نوٹس موصول ہوا تھا جو راولپنڈی کے فیاض نامی شہری کی شکایت پر جاری ہوا تھا ۔ اسد طور کو پہلا نوٹس نجی ٹیم ہم نیوز کی مارننگ شو کی میزبان شفا یوسفزئی کی شکایت پر جاری کیا گیا تھا ۔ بدھ کے روزسماعت کے دوران شفا یوسفزئی خود اپنے وکیل جواد عادل کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ ان کے وکیل نے بھی ایف آئی اے کی جانب سے مبہم نوٹس جاری کئے جانے کو ٖغلط تسلیم کیا ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو تین ہفتے کا وقت دیتے ہوئےاس کیس کو ٹیسٹ کیس  قراردیا اور ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر ایف آئی اے بنیادی انکوائری مکمل کر کے عدالت کو آگاہ کرے کہ کیا یہ کیس ایف آئی اے کا بنتا بھی ہے یا نہیں ۔ عدالت نے ایڈٰشنل اٹارنی جنرل کے علاوہ پاکستان بار کونسل اور صحافیوں کے تحفظ کے لئے قائم کمیٹی کو بھی پیکا کی سیکشن 20 اور اس کے استعمال سے متعلق معاونت طلب کی ہے ۔۔ عدالت نے تمام فریقین کے سامنے بنیادی سوال یہ رکھا ہے کہ کہیں پیکا کی سیکشن 20 آئین کے آرٹیکل 19میں دی گئی اظہار رائے کی آزادی کیخلاف تو نہیں۔ کیس کی آئندہ سمات 30جون کو ہو گی

No comments

leave a comment