April 12, 2021

سوشل میڈیا رُولز پر نظر ثانی ،اٹارنی جنرل نے 19 فروری کو چند فریقین کو طلب کر لیا

English story here.

فروری 12، 2021۔ تنازعہ سوشل میڈیا رُولز پر وفاقی حکومت کی جانب سے نظر ثانی پر رضامندی کے بعد اٹارنی جنرل نے چند فریقین کو 19 فروری کے روز مشاورت کے لئے طلب کر لیا۔ اٹارنی جنرل آفس سے 19 فریقین کو خط لکھ کر مشاورتی میٹنگ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے ۔میٹنگ میں مختلف تنظیموں، اداروں کے نمائندوں سمیت کُل19 افراد کو مشاورت میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

چئیرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی، سیکرٹری اطلاعات اور سیکرٹری کابینہ ڈویژن بھی 19 فروری کو اٹارنی جنرل آفس میں ہونی والی اس میٹنگ میں شریک ہوں گے۔ اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے)، پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے صدر عبدالقیوم صدیقی اور اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیر کو بھی بطور اسٹیک ہولڈر طلب کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا رُولز کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے والی عوامی ورکرز پارٹی، خاتون صحافی عنبر رحیم شمسی اور دیگر تمام درخواستگزار بھی اس اہم میٹنگ کا حصہ ہوں گے۔

پچیس جنوری کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان چیف جسسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں پیش ہوئے اور بیان دیا تھا کہ سوشل میڈیا رُولز حرف آخر نہیں ہیں، تمام فریقین سے مشاورت کے بعد رُولز پر نظر ثانی کے لئے تیار ہیں ۔ اس پر عدالت نے حکومت اور پی ٹی اے کو فریقین سے مشاورت کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے سوشل میڈیا 2020 رُولز میں ازخود ہی کوئی بھی مواد حذف یا بلاک کرنے سمیت ایسے اختیارات حاصل کئے گئے تھے جنہیں عدالت سے رجوع کرنے والے افراد اور تنظیموں نے آئین میں دیئے گئے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

عدالت نے بھی پی ٹی اے کے طرز عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھائے تھے کہ جب آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 میں اظہار رائے کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے تو کیا پی ٹی اے ایسے رُولز بنا کر استعمال کر سکتا ہے جو خلافِ آئین ہوں ؟ رُولز مرتب کرنے میں فریقین سے مشاورت نہ کرنے پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.