March 2, 2021

سوشل میڈیا رُولز، اسلام آباد ہائیکورٹ کی حکومت کو مزید اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہدایت

Islamabad High Court update from February 22, 2021 | English story here.

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے تیار کئے گئے سوشل میڈیا رُولز میں ترمیم کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت اور اٹارنی جنرل پاکستان کو مزید اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر کے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شہری ہارون رشید کی درخواست پر سماعت کے دوران ہدایات جاری کیں۔ پیر کے روز چیف جسسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں شہری ہارون رشید کی درخواست کے علاوہ ٹی وی اینکرز کیخلاف توہین عدالت کا کیس بھی سماعت کے لئے مقرر تھا، عدالت نے تمام درخواستوں پر ایک ساتھ سماعت کی اور رجسٹرار آفس کو احکامات جاری کئے کہ سوشل میڈیا رُولز کے مرکزی کیس کے ساتھ ہی تمام درخواستوں کو مقرر کیا جائے۔ اس موقع پر سینئر صحافی اور ٹی وی اینکر حامد میر خود عدالت میں پیش ہوئے ۔

چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حامد میر صاحب آپ ان تمام کیسز میں خود کو درخواستگزار ہی سمجھیں۔ دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ بھی عدالت میں موجود تھے جن سے عدالت نے استفسار کیا کہ قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ کی بحالی سے متعلق جو احکامات جاری کئے گئے تھے ان کا کیا بنا؟ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ “قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کے لئے پیشرفت سامنے آئی ہے، حکومت اور پی ٹی اے کے درمیان بات چیت چل رہی ہے جبکہ وزیراعظم بھی سروس بحالی کا اعلان کر چکے” ۔ عدالت نے پیشرفت کو مثبت قرار دیا۔

چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا رُولز پر نظر ثانی اٹارنی جنرل کا اچھا موقف تھا لیکن اس پر مشاورت تمام فریقین سے ہونی چائیے ۔ بے شک حکومت مزید وقت لے لیکن تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے سن کر ہی رُولز میں ترامیم کی جائیں ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان کو 26 فروری کے روز اسٹیک ہولڈرز کیساتھ ہونے والی مشاورت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ خیال رہے کہ ہائیکوٹ کی ہدایات پر ہی گذشتہ ہفتے اٹارنی جنرل آفس میں کچھ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی بھی گئی تھی جہاں فریقین نے مختلف آرا اور تجاویز پیش کی تھیں ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹی وی اینکرز کیخلاف توہین عدالت کیس اور سوشل میڈیا رُولز کورٹ رپورٹنگ سے متعلق عدالتی معاون کے طور پر مقرر کی گئی اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کو بھی چھبیس فروری کے روز جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ صحافیوں کی حفاظت کے لیےپاکستان بار کونسل کی بنائی کمیٹی  کو بھی نوٹس جاری کئے گئے ہیں ۔چھبیس فروری کو اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ان تمام درخواستوں اور اینکرز کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ایک ساتھ کی جائے گی ۔ یاد رہے کہ اکتوبر 2019 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو طبی بنیادوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت پر رہا کیا تھا جسے کچھ ٹی وی اینکرز کی جانب سے ڈیل کہنے سمیت مختلف تبصرے کئے گئے تھے۔ ہائیکورٹ نے اس پر ٹی وی اینکرز کو  توہین عدالت کیس میں نوٹس جاری کیا تھا ۔ ٹی وی کے علاوہ اپنے یوٹیوب چینل پر تبصرہ کرنے والے اینکر سمیع ابراہیم کو بھی اسی کیس میں طلب کیا گیا تھا ۔

دوسری جانب سوشل میڈیا کے رُولز 2020 کیخلاف پانچ سے زائد درخواستگزاروں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ درخواستوں میں محض رُولز کی بنیاد پر پی ٹی اے کی جانب سے کوئی بھی مواد بلاک کر دینے کے اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواسستگزاروں کے علاوہ عدالت نےبھی رُولز پر آئینی اور قانونی نوعیت کے سوالات اٹھائے تھے کہ جب آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-اے میں اظہار رائے کی آزادی کے حق کی ضمانت دی گئی ہے تو پھر پی ٹی اے آئین سے متصادم رُولز کیسے بنا سکتا ہے۔

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.