09/25/2021

سوشل میڈیا رولز ۔۔ نئے ڈرافٹ میں قابل اعتراض مواد روکنے کیلئے کیا کچھ ہے؟ ہائیکورٹ 22ستمبر کو جائزہ لے گی

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی کے متازعہ سوشل میڈیا رولز 2020کے معاملے پر نئی اور اہم پیشرفت سامنے آگئی ہے ۔ پی ٹی اے کو اب جہاں ہائیکورٹ کے ایک بنچ کو اس بات پر مطمئن کرنا ہو گا کہ اتھارٹی کے پاس اظہار رائے کی آزادی روکنے جیسا کوئی اختیار باقی نہیں رہا تو وہیں دوسرے بنچ کو اس بات پر تسلی بخش جواب دینا ہو گا کہ قابل اعتراض مواد روکنے کے لئے نئے رولز میں تمام سختیاں موجود ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک رکنی بنچ ، چیف جسٹس اطہر من اللہ کی ہدایات کے مطابق حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر رولز میں ترمیم کر رہی ہے اور ایسا نیا ڈرافٹ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جس سے اظہار رائے کی آزادی متاثر نہ ہو لیکن اب اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہی ایک اور بنچ اس نئے ڈرافٹ کا 22ستمبر کو جائزہ لے گا کہ اس میں سوشل میڈیا پر مذہب مخالف قابل اعتراض مواد کو روکنے کے لئے اقدامات موجود ہیں یا نہیں ۔ شہری حافظ احتشام کی جانب سے سوشل میڈیا پر مبینہ گستاخانہ مواد کیخلاف درخواست پر سماعت کرنے والے جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بنچ نے پی ٹی اے کو اس معاملے پر معاونت کی ہدایت کر دی ہے ۔ عدالت نے پی ٹی اے کو بھارت اور بنگلہ دیش کے سوشل میڈیا رولز سے بھی آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

پی ٹی اے نے ازخود تیار کردہ سوشل میڈیا رولز 2020میں کسی بھی مواد کو ہٹانے یا بلاک کر دینے کا اختیار حاصل کرلیا تھا جس کے خلاف آئین قرار دیتے ہوئے صحافیوں ، وکلا سمیت مختلف طبقات کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیاتھا ۔۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 19میں جب اظہار رائے کی آزادی دی گئی ہے تو پی ٹی اے ایسے آئین سے متصادم رولز کیسے بنا سکتا ہے ۔ اٹارنی جنرل پاکستان کو عدالت نے طلب کیا تھا جہاں انہوں نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا رولز حرف آخر نہیں ہیں ان میں مشاورت کے بعد ترمیم ہو سکتی ہے ۔ اٹارنی جنرل نے اس کے بعد مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی کی تھی اور نیا ڈرافٹ تیار کیا جا رہا ہے

دوسری جانب اب پی ٹی اے کو تازہ پیشرفت کے بعد گستاخانہ اور متنازعہ مواد کیخلاف سماعت کرنے والے بنچ کو مطمئن کرنا ہو گا اور یہ بتانا پڑے گا کہ سوشل میڈیا رولز کے نئے ڈرافٹ میں ایسی تمام پابندیاں اور سختیاں موجود ہیں جن کے تحت گستاخانہ یا مذہب مخالف مواد کو روکا جا سکے گا ۔ عدالت کی جانب سے نئے ڈرافٹ میں مزید ترامیم شامل کرنے جیسی ہدایات سامنے آنے کا امکان بھی موجود ہے ۔

جسٹس عامر فاروق نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی شکایات پر پی ٹی اے کی سرزنش کی تھی اور یہ سوال بھی اٹھا چکے ہیں کہ یوٹیوب اور فیس بک جیسی ویب سائٹس کو پاکستان میں دفاتر کیوں موجود نہیں ؟ اسی کیس کی سماعت کے دوران ہی پی ٹی اے نے یقین دہانی کرائی تھی کہ نئے سوشل میڈیارولز سے ایسی پابندیاں یقینی بنائی جائیں گی جن کے ذریعے گستاخانہ یو توہین آمیز مواد کو روکا جاسکے گا ۔ اس کیس میں درخواستگزار حافظ احتشام کا تعلق لال مسجد کی شہدا فاونڈیشن سے ہے جبکہ وہ دائیں بازو کی سول سوسائٹی نامی تنظیم کے نام سے بھی کئی معاملات پر عدالت میں درخواستیں دائر کرتے رہتے ہیں۔ اسی تنظیم سے تعلق رکھنے والے طارق اسد ایڈوکیٹ نے سوشل میڈیا رولز کیس میں فریق بننے کے لئے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں بھی درخواست دائر کی تھی تاہم چیف جسٹس نے انہیں الگ درخواست دائر کر نے کی ہدایت کی تھی تاہم اب دوسرے بنچ سے سامنے آئی اس پیشرفت کے بعد معاملے نیا رخ اختیار کر گیا

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.