June 13, 2021

سابق سینیٹر کے ٹی وی پر آنے پر پابندی کا پیمرا نوٹیفکیشن اختیار کا غلط استعمال قرار

Islamabad High Court update from May 25, 2021 | English story here.

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آزادی اظہار رائے سے متعلق ایک اور اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے ۔۔ حکومتی پالیسیوں کے ناقد اور جمعیت علما اسلام سے تعلق رکھنےوالے سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخی اور ٹی وی پروگرام میں شرکت پرپابندی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے ۔ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ااطہر من اللہ نے 29صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا کہ بلاشبہ پیمرا نے ٹی وی چینلز کو حافظ حمد اللہ کو پروگرام میں نہ بلانے کی ہدایت کر کے اختیار کا غلط استعمال کیا ۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے 26اکتوبر2019کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ٹی وی چینیلز کو ہدایت کی تھی کہ وہ حافظ حمد اللہ کو پروگرام میں بلانے یا ان کی تشہیر کرنے سے باز رہیں ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ”پیمرا نے ایسا کر کے آئین پاکستان کے آرٹیکل 19اور19اے میں ہر شہری کو دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی‘‘

ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ کوئی بھی رولز پیمرا کو شتر بے مہار قسم کے اختیارات نہیں دیتے کہ وہ ٹی وی چنیلز کے مواد اور اس کے مہمانوں پراثرانداز ہو یا ان کو ریگولیٹ کرے، پیمرا کے پاس اس طرح کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا ۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیمرا کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔

پیمرا کی جانب سے لگائی گئی پابندی میں اس بات کو بنیاد بنایا گیا تھا کہ سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کا شناختی کارڈ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے حکام نے منسوخ کر دیا ہے ، وہ پاکستانی شہری نہیں رہے اس لئے ان کو ٹی وی چنیلز پر بھی نہیں بلایا جا سکتا تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے نادرا کے اس اقدام کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حافظ حمداللہ کا شناختی بحال کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت نے نادرا کے ایسے ہی اقدامات سے متاثر 10دیگر شہریوں کی شہریت بھی بحال کرنے کا حکم دیا ہے

No comments

leave a comment