07/31/2021

سابقہ فاٹا میں انٹرنیٹ کی قیمت چالیس روپے فی دن اور بہت سی مشکلات

خیبرپختونخوا کے نئے ضم اضلاع کے تقریباً پچاس لاکھ کی آبادی میں صرف چند لاکھ لوگوں کے لئے اس جدید دور میں بھی انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے ۔

پچیس ویں آئینی ترمیم کے بعد جب سابقہ فاٹا کو خیبر پختونخوا کے ساتھ جوڑا گیا تو حکومت نے علاقہ کی ترقی کے لئے تاریخی بجٹ کا اعلان بھی کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ارباب اختیار حکومت نے یہاں کی عوام سے وعدے بھی کئے کہ علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پالیسیاں تیارکی جا رہی ہیں تاکہ اس پسماندہ علاقے کے لوگ بھی پشاور،لاہوراور کراچی کے باسیوں جیسی زندگی بسر کر سکے۔

کووِڈ 19 کے دوران بدقسمتی سے اس علاقے کی محرومیاں اور کھل کر سامنے آئیں ۔ کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جب حکومت نے اعلان کیا کہ تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے اور کلاسسز آن لائن ہو گی تو یہاں سے تعلق رکھنے والے طالبِ علموں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔

کرونا وباء کو کنٹرول کرنے کے لئے اس قسم کے انقلابی اقدامات کے اعلان کا تو شاید لاہور، کراچی، پشاور، اسلام آباد سمیت دوسرے بڑے شہروں کے طلباء پر کوئی اثر نہیں پڑامگر پاکستان کے سرحدی علاقہ جات باجوڑ، مومند، جنوبی اور شمالی وزیرستان، کرم، اورکزئی اور خیبر اضلاع کے سٹوڈنٹس کا پورا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خطرہ موجود ہے ۔

اس حوالے سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن میر کلام وزیر نے کہا کہ کرونا وباء کی وجہ سے تو تعلیمی ادارے بند ہیں اور ہونے بھی چاہیےمگر آن لائن کلاسسز کی وجہ سے مقامی طلباء کا بہت قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے ۔ چونکہ فاٹا میں انٹرنیٹ سکیورٹی کے نام پر بند ہے جس کی وجہ سے طلباء کلاسسزلینے سے قاصر ہے۔

باجوڑ کے ثاقب جاوید علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل پشتو کے سکالر ہے۔ اور آن لائن کلاسسز کے حکومتی اقدام سے بہت نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آن لائن کلاسسز وقت کی اہم ضرورت ہے مگر سابقہ فاٹا کے بہت سارے اضلاع میں سکیورٹی کے نام پر اداروں نے انٹرنیٹ کی سہولت کو عام عوام کے لیے بند کر رکھا ہے۔ اور یہ ہمارے نجاشی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ثاقب جاوید نے کہا کہ کرونا وباء کے دوران انٹرنیٹ کا نہ ہونا ہم طلباء کے لئے بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ طلبا کلاسسز نہیں لے سکتے ہیں اور مہینے میں ایک بار بڑے شہروں کی طرف آتے ہیں ۔انھوں نے مزید بتایا کہ باجوڑ کے مرکزی شہر میں اگرچہ انٹرنیٹ کام کرتا ہے مگر دیہات کے لوگ ابھی تک اس سہولت اور نعمت سے محروم ہیں۔

ضلع خیبر جغرافیائی طور پر صوبے کے مرکزی شہر پشاور کے سرحد کے ساتھ ہے مگر جدید سہولیات میں یہ علاقہ بھی وزیرستان کے برابر ہے۔ سہیل خان جمرود کے شاکس کے علاقہ میں رہتا ہےاور پشاور یونیورسٹی کے طالب علم ہے۔ آن لائن کلاسسز کے دنوں میں ان کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ظلم کی انتہا ہے جب میرے تمام کلاس فیلوز آسانی کے ساتھ کلاسسز بھی لے رہے ہیں اور اسائمنٹ پر کام بھی وقت پر مکمل کرتے ہیں، ہم نئے ضم اضلاع کے طلباء پیچھے رہتے ہیں۔ انھوں نے یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومتی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر ایک کے علم میں ہے کہ آن لائن کلاسسز سابقہ قبائلی اضلا ع میں ممکن ہی نہیں ہے مگر پھر انتظامیہ اس انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کو کوئی دلیل نہیں مان رہی۔ اس لئے میں اور چند دوست پہاڑی پر چڑھتے ہیں اور اسی جگہ پر کمزور انٹرنیٹ کے سنگلز آتے ہیں جس سے بہت مشکل سے ہم کام چلاتے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی نے ایسے طلباء کے لئے ہاسٹل میں رہنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ پشاور یونیورسٹی کے ترجمان نعمان خان نے کہا کہ اعلان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے چترال، گلگت سمیت نئے ضم اضلاع کے طلباء کی انفرادی درخواستوں پر دو ہاسٹلز مختص کئے ہیں جس میں تمام طلباء کے لئے انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کی گئی ہے ۔

عوامی حل

موجودہ صورتحال میں چونکہ کرم ضلع میں بھی انٹرنیٹ نہیں ہے توکرم ضلع کے صدہ، پاڑا چنار اور بگن بازاروں میں کچھ نوجوانوں نے نیٹ کیفے بنائے ہیں اور یہ نیٹ کیفے باقاعدہ کاروبار کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہاں درجنوں کے حساب سے نوجوان اپنے موبائل فونز اور لیپ ٹاپز میں مصروف نظر آتے ہیں۔

عدنان خان نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے، اور بگن بازار میں ایک انٹرنیٹ کیفے چلاتے ہیں۔

عدنان کے مطابق ان کے انٹرنیٹ کیفے میں کلاسسز اور انٹرٹینمنٹ کے لئے پچاس کے قریب افراد روزانہ آتے ہیں۔ وہ روزانہ پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ کا پاس ورڈ تبدیل کرتے ہیں اور صبح سے شام تک انٹرنیٹ استعمال کرنے کے چالیس روپے چارج کرتے ہیں۔ عدنان خان کے بقول وہ نہ صرف مقامی افراد کو انٹرنیٹ فراہم کرتے ہیں بلکہ اسی وجہ سے شام تک 1500 روپے تک کما بھی لیتے ہیں۔

لنڈی کوتل کی صبا خان پشاور یونیورسٹی میں بی ایس کی طالبہ ہے ۔ اور وہ اس ساری صورتحال سے زیادہ پریشان ہیں۔ صباخان ہر ماہ کے اختتام پر شہر جاتی ہیں اور اپنی دوست سے یو ایس بی میں تمام لیکچرز لاتی ہیں۔ یا ان کے بھائی بڑے شہر جہاں پر انٹرنیٹ کی سہولت ہووہاں سے جا کر ان کے لیے لیکچرز لے کر آتے ہیں۔ صبا خان کو گھروالوں کی جانب سے انٹرنیٹ کیفے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

واجد اورکزئی حال ہی میں دبئی سے لوٹے ہیں۔ وہ ہفتہ میں دو تین دن بگن بازار آتے ہیں تاکہ دوستوں سے گپ شپ کرنے کے ساتھ ساتھ ای میل اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو چیک کر سکیں۔ اورکزئی کا کہنا ہے کہ چونکہ ہم پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں جہاں پر انٹرنیٹ تک رسائی بالکل نہیں ہیں تو اس لئے روزانہ بگن بازار کی انٹرنیٹ کی دکانوں کے سامنے آپ کو درجنوں کے حساب سے لڑکے نظر آئیں گے جو یا تو آن لائن کلاسسز لے رہے ہوتے ہیں یا پھر موبائل فونز پر میوزک، موویز اور گیمز کھیلنے میں مصروف ہوتے ہیں۔

مقامی صحافی نبی جان اورکزئی کو کیفے کے متعلق کچھ خدشات ہیں۔ اور وہ ان انٹرنیٹ کیفے کے حق میں نظر نہیں آتے لیکن اس کے ساتھ وہ سابقہ قبائلی علاقہ جات میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے حق میں ہیں۔ نبی جان سمجھتے ہیں کہ ان انٹرنیٹ کیفے جیسی جگہوں سے سائبر کرائمز کا شدید خطرہ موجود رہتا ہے کیونکہ درجنوں کے حساب سے لوگ ایک ہی کیفے سے ایک انٹرنیٹ اور ایک ہی آئی پی ایڈریس سے آن لائن رہتے ہیں ۔ اور اگر کوئی فرد غیر قانونی سرگرمیاں کرتا رہا تو مجرم کا تعین کیسے ہو گا؟ نبی جان چاہتے ہیں حکومت مقامی سطح پر انٹرنیٹ کو عام کرنے کی اجازت دے ۔اس طرح ہر کوئی اپنے گھر میں انٹرنیٹ لگانے کی پوزیشن میں ہوگاجس کی وجہ سے معاملات آسان اور اداروں کی نظر میں رہیں گے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ بنگش کا کہنا ہے کہ حکومت نے یونیورسل ایکسس فنڈ ہی کے ذریعے سابقہ فاٹا کے تقریباً تمام مرکزی شہروں میں پی ٹی سی ایل نے فائبر اپٹک بچھایا ہے۔ ان کے بقول حکومت نے تمام سیلولر کمپینیز کے ساتھ معاہدے کئے ہیں اور جلد جنوبی اور شمالی وزیرستان سے لیکر کرم اور اورکزئی اور خیبر ، باجوڑ اور مومند تمام نئے اضلاع میں انٹرنٹ کی سہولت عنقریب ہر فرد کے دہلیز پر ہوگی۔

میرکلام ممبر صوبائی اسمبلی کا کہنا ہے کہ جب تمام حکومتی ادارے دہشت گردوں کی خاتمہ کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر انٹرنیٹ کی سہولت نہ فراہم کرنے کا کوئی لاجک نہیں بنتا۔ ہمارے لوگوں انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ “سابقہ فاٹا کے لوگ پہلے سے پسماندہ ہے باقی انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے طلباء کا مستقبل تاریک ہوتا جار رہا ہے۔ طاقتور اداروں کو چاہئے کہ ہم پر رحم کرے۔” میرکلام نے کہا کہ نہ صرف میں نے بالکہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ممبران نے بھی اسی معاملہ کو اسمبلی فلور پر کئی مرتبہ اٹھایا ہے مگر کوئی شنوائی ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔

No comments

leave a comment