June 13, 2021

سائبرکرائم ایکٹ کیا آئین سے متصادم ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا

Islamabad High Court update from May 7, 2021 | English story here.

ایف آئی اے کی جانب سے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت اختیارات سے تجاوز کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ ایف آئی اے پر شدید برہم ، اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا ۔ سوال پوچھا لیا کیا سائبرا کرائم ایکٹ کی سیکشن 20کیا آئین سے متصادم نہیں ؟ معاملے پر سینئر وکیل حامد خان ، عابد حسن منٹو اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کوعدالتی  معاون بھی مقرر کردیا گیا ۔

ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس جاری کئے جانے کیخلاف صحافی اسد طور کی درخواست پر سماعت چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے کی ۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا سائبر کرائم ایکٹ کی سیکشن 20 آئین کے آرٹیکلز 14,19,19A سے متصادم ہے؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے کے نوٹس سنسرشپ کی بدترین مثال ہیں، اگر تنقید پر کاروائی شروع کردی تو بات کہیں نہیں رُکے گی،اپوزیشن لیڈر درخواست دے کہ وزیراعظم نے میری توہین کی تو کیا ایف آئی اے وزیراعظم کو نوٹس کرے گی؟ایف آئی اے ہمیشہ یکطرفہ کاروائی کرتے رہی ہے ۔ ہم نے کبھی نہیں دیکھا ایف آئی اے کسی حکومتی شخصیت کے خلاف کیس بنا کر لائی ہو۔

عدالت نے ایف آئی اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تحقیق کرکے بتائیں دُنیا کے کتنے مُمالک میں توہین کے الزام کو فوجداری جرم مانا گیا ہو؟دُنیا میں جب بھی توہین کو فوجداری کا قانون بنانے کی کوشش کی تو عدالت نے کالعدم قرار دے دیا ،اگر آپ نوٹس جاری کرنے لگ جائیں گے تو مُلک میں کوئی بھی نہیں بولے گا، صحافی اور اینکر روز کسی نہ کسی پر تنقید کرتے ہیں، ایسے نوٹس ہونے لگے تو سب کو بند کرنا پڑ جائے گا،

اِس عدالت کے بارے میں بہت توہین آمیز باتیں گی گئیں لیکن ایف آئی اے نے کبھی کاروائی نہیں کی،میری ایک تصویر سپریم کورٹ کے حاضر جج کے ساتھ وائرل ہوئی اس پر پتہ نہیں کیا کیا لکھا گیا ۔

ایف آئی اے کی جانب سے صحافی اسد طور کو جاری  نوٹس کے خلاف کیس میں وکیل عُثمان وڑائچ اور ایمان مزاری پیش ہوئے ۔عدالت نے اٹارنی جنرل ، معاونین اور ایف آئی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردی

No comments

leave a comment