10/22/2021

جن کی کوئی آواز نہیں ہوتی صحافی ان کی آواز ہیں، ہراساں نہ کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ*

English translation of the story here.

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سابق چئیرمین پیمرا اور سینئر صحافی ابصار عالم کو انسدا الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت نوٹس جاری کرنے کو  اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے نوٹس واپس لے لیا ہے جبکہ ابصار عالم کیخلاف کیس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ چونکہ ایف آئی اے نے کیس بند کر دیا ہے اس لئے عدالت بھی ابصارعالم کی ایف آئی اے طلبی کیخلاف درخواست نمٹا دے تاہم ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس کیس کو بھی صحافیوں کو ایف آئی اے نوٹسز کیخلاف زیر التوا دیگر کیسز کیساتھ 27 ستمبر کو مقرر کیا جائے گا۔

دوران سماعت چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے نوٹس جاری ہی کیوں کیا تھا؟ پیکا کے تحت آپ اختیارات اس وقت استعمال کریں جب ایف آئی اے کے لوگ تربیت یافتہ  ہو جائیں، اس طرح مبہم نوٹس جاری کرنا  غیر ضروری ہراساں کرنا ہے۔ ابصار عالم کے وکیل عثمان وڑائچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ نوٹس جاری کیا گیا تو اس کی کوئی بنیاد ہو گی، وہ بتائی جائے ۔ اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے مان گیا ہے کہ نوٹس غلط طور پر جاری ہوا ہے،ایک غلطی ہوئی ہے تو اچھی بات ہے کہ اس کو سدھارا بھی گیا ہے لیکن آئندہ کے لیے چیزوں کو درست ہونا چاہئے۔ ہم اس کیس کو ابھی نہیں نمٹا رہے،اس درخواست کو ایف آئی کے خلاف دیگر درخواستوں کے ساتھ 27 ستمبر کو دوبارہ فکس کیا جائے ۔

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.