08/01/2021

توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار چار لوگوں کو سزا

Islamabad High Court update from January 8, 2021 | English story here.

اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے سوشل میڈیا پر توہین مذہب کے الزام میں گرفتار تین ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور پانچ پانچ سال قید بامشقت جبکہ چوتھے ملزم کو دس سال قید سنا دی ہے۔ چار اشتہاری ملزمان کے دائمی وارنٹس گرفتاری جاری کر دیئے گئے ۔

انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ناصر احمد سلطانی، رانا نعمان اور عبد الوحید کو سزائے موت سنائی جبکہ پروفیسر انوار احمد کو دس سال قید بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ تینوں ملزمان پر سیکشن 295 سی اور جی کے تحت جرم ثابت ہوتا ہے جبکہ پروفیسر انوار احمد 295 اے کے تحت جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

عدالت ایف آئی اے کی جانب سے پیش کئے شواہد اور گواہان کے بیانات سے مطمئن ہے ، استغاثہ  اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہی ۔ ملزمان نے سوشل میڈیا پر جس طرح کے مواد کی تشہیر کی وہ  سزاکے ہی مستحق ہیں۔ چاروں مجرمان کو فیصلے کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ پروفیسر انوار احمد کی کلاس روم میں لیکچر کے دوران مبینہ توہین مذہب کی ویڈیو سامنے آنے پر گرفتار کیا گیا تھا جبکہ  ناصر احمد سلطانی پر نبوت کا دعوی کرنے کا الزام ہے۔ رانا نعمان اور عبد الوحید پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر جرات تحقیق نامی پیج بنا کر ایسا مواد پھیلا رہے تھے جس سے توہین رسالت ثابت ہوتی ہے ۔

چار سال پہلے شہری حافظ احتشام نے سوشل میڈیا پیجز پر گستاخانہ مواد کی نشاندہی کرتے ہوئے ایف آئی اے کو اندراج مقدمہ کی درخواست دی تھی ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھی مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا ۔

ایف آئی اے نے سوشل میڈیا کے توہین آمیز اکاونٹس فرانزک کر کے ملزمان کا سراغ لگایا اور گرفتاریاں کی تھیں ۔ عدالتی فیصلے کے بعد مدعی مقدمہ حافظ احتشام نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے سے مطمئن ہیں۔

سوشل میڈیا پر توہین مذہب کا اسلام آباد میں یہ پہلا کیس ہے جس میں سزائیں سنائی گئی ہیں ۔ عدالت نے کیس میں  نامزد چار اشتہاری ملزمان  طیب سردار ، راو قیصر شہزاد ، فراز پرویز اور پرویز اقبال کے دائمی وارنٹس گرفتاری بھی جاری کر دیئے ہیں۔

عدالتی فیصلے سے پہلے فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ۔ ملزمان کو عدالت پہنچانے سے پہلے کمرہ عدالت کو خالی کرایا گیا ۔ جج نے ہتھکڑی لگے چاروں ملزمان کو روسٹرم پر بلایا اور فیصلہ پڑھ کر سنایا ۔ فیصلے سننے کے بعد مدعی مقدمہ کے وکلا نے ایک دوسرے کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مٹھائی تقسیم کی جبکہ عدالت کے باہر میڈیا کیمروں کے سامنے بھی جشن مناتے رہے۔

No comments

leave a comment