10/22/2021

ایف آئی اے کی شکایات اور پی ٹی اے کا ایکشن، مزید 110اکاونٹس بلاک

Islamabad High Court update from July 8, 2021 | English story here.

نفرت انگیز یانامناسب قرار دیکر پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کسی اکاونٹ کو بلاک کردینے کا اختیار کس حد تک استعمال کیا کر سکتا ہے ، یہ معاملہ ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے اعتراضات بھی اس پر موجود ہیں لیکن دوسری جانب پی ٹی اے کی جانب سے اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کی رفتار اور تعداد میں تیزی دکھائی دے رہی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہی ایف آئی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ سال2021کے صرف پہلے چھ ماہ میں 110اکاؤنٹس کو پی ٹی اے کے ذریعے بلاک کرایا جا چکاہے، اس کے مقابلے میں 2020 کے پورے سال کے دوران بلاک ہونے والے اکاؤنٹس کی تعداد 167 تھی ۔ رپورٹ کیمطابق رواں سال اٹھائیس انکوائریاں شروع کی گئیں جبکہ گیارہ مقدمات بھی سوشل میڈیا پر ایسے اکاؤنٹس سے متعلق درج کئے گئے جن کے مواد پر اعتراضات سامنے آئے تھے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر میں ملوث 47 رپورٹ ہونے والے اکاؤنٹ بلاک کئے گئے۔ گستاخانہ مواد کی تشہیر سے متعلق 42 انکوائریز اور 44 کیسز پچھلے سال بھی درج کئے ۔

دوسری جانب اکاونٹس بلاک ہونے سے پیجز بلاک ہونے کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ پی ٹی اے کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہی جمع رپورٹس دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ موصول ہونےو الی مجموعی شکایات میں سے 95فیصد کا حل متعلقہ پیجز کو بلاک کرنے کی صورت میں ہی نکالا جاتا ہے ۔ ایک رپورٹ کیمطابق پی ٹی اے کو 10لاکھ29ہزارسے زیادہ شکایات موصول ہوئیں جن پر کارروائی کرتے ہوئے 9لاکھ 81ہزار پیجز کو پی ٹی اے نے بلاک کر دیا ۔ سب سے زیادہ 8لاکھ، 75ہزار پیجر کو نامناسب یا غیر اخلاقی ہونے پر بلاک کیا گیا ۔مذہب مخالف ہونے پر 69ہزار، نفرت انگیز تقریر کے الزام پر ساڑھے 22ہزار اور ملکی دفاع کے خلاف ہونے پر 23ہزار سے زیادہ سوشل میڈیا پیجر کو بلاک کیا گیا ہے ۔

پیجز یا اکاؤنٹس بلاک کرتے ہوئے پی ٹی اے متنازعہ سوشل میڈیا رُولز 2020 کا سہارا لیتا ہے جس پر اسٹیک ہولڈرز کے اعتراضات اور سوالات موجود ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی ان رُولز میں ترمیم کرنے کی ہدایات جاری کر چکی جس پر حکومت نے رضامندی بھی ظاہر کر رکھی ہے

No comments

leave a comment