09/25/2021

اسلام آباد ہائیکورٹ کا لاہور میں دو صحافیوں کو گرفتار کرنےو الے ایف آئی اے افسران کیخلاف کارروائی کا حکم

Islamabad High Court update from September 1, 2021 | English story here.

انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے تحت صحافیوں کو ہراساں کرنے سے روکنے کی واضح ہدایات کے باوجود لاہور میں ایف آئی اے کے ہاتھوں دو سینئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کی گرفتاری پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کی ہدایت کر دی ہے ۔۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے ، لاہور واقعے میں ملوث افسران کو مثال نہ بنایا گیا تو یہی سمجھا جائے گا کہ مخصوص رائے رکھنے والے صحافیوں کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے

بدھ کے روز  اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافیوں کیخلاف ایف آئی اے کارروائیوں کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی ۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ بار بار کہا ہے تاثر کو ختم کریں کیوں ان صحافیوں کے پیچھے پڑ گئے جو حکومت کے خلاف رائے دے رہے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے کہا کہ اگر ایف آئی اے افسران نے ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے تو ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے لیکن ابھی تھوڑا انتظار کرلیتے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے والے تمام مقدمات کا ریکارڈ منگوا رکھا ہے ۔اس پر چیف جسٹس نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ نے اس عدالت کو کارروائی جاری رکھنے سے نہیں روکا ۔۔ پچھلی سماعت کے بعد لاہور میں کیا ہوا ایف آئی اے نے اس عدالت کی توہین کی،ایف آئی اے اس عدالت کے ساتھ ایسا گیم کیوں کر رہی ہے؟ آپ عدالت کو گمراہ کررہے ہیں۔ کیا عدالتی حکم کے بعد بنائے ایس او پیز لاہور ایف آئی اے پر لاگو نہیں ہوتے؟ آپ کے خلاف جو تاثر ہے آپ نے اس کو  کنفرم کردیا بتائیں لاہور واقعے میں ملوث افسران کے خلاف کیا ایکشن لیا۔ ایک عام شہری کو ڈرانے کے لیے ایف آئی اے کا ایک نوٹس ہی کافی ہے ، یہ عدالت آج تحمل   دکھا رہی ہے لیکن اسے نظر انداز نہیں کریں گے۔کیوں نہ شہزاد اکبر سے پوچھیں کہ اس عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا ؟  ایف آئی اے کے کنڈکٹ سے صحافیوں کے الزامات درست ثابت ہوئے۔

ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیا اب یہ عدالت ایف آئی اے کو فری ہینڈ دے دے ۔ اگر ایف آئی اے نے لاہور والے واقعے کے خلاف ایکشن نہیں لیا تو کون جواب دہ ہے؟یہ سوسائٹی آئین کے تحت چل رہی ہے

ہم نے کہا تھا یہ تاثر ختم کیا جائے کہ کاروائیاں صرف صحافیوں کے خلاف ہورہی ہیں ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودودنے کہا کہ ایک چانس دے دیں تو ہم سارا معاملہ دیکھ لیتے ہیں ۔ اس پر عدالت کا کہنا تھاکہجن افسران نے لاہور میں یہ کام کیا ان کے خلاف ایکشن لیکر مثال بنائیں ۔ ڈی جی ایف آئی اے کو چاہیے تھا کہ خود لاہور واقعہ والے افسران کو مثال بناتے۔  اگر کوئی راہ جاتا وزیر اعظم کے خلاف شکایت کردے تو کیا ایف آئی اے وزیراعظم کو بلائے گی؟ ہر ایک کی اپنی رائے ہے لیکن ایف آئی اے اس قانون کا استعمال اس طرح تو نہیں کر سکتی ، آپ ریاست کی ایجنسی ہیں آپ کو تو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے ،وزیراعظم بھی آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں لیکن اچانک یہ سامنے آیا کہ ایف آئی اے کے افسر لوگوں کے گھر میں جاکر فائرنگ کر رہے ہیں۔۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ اگرچہ درست ہے کہ آزادی اظہار رائے کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے جھوٹ بھی بولا جارہا ہے لیکن ریگولیشن کا طریقہ یہ نہیں ہے۔لوگوں کے بنیادی حقوق ہیں ان کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے۔ہر سماعت کے بعد ایف آئی اے عدالتی فیصلے کی پرواہ کئے بغیر کوئی نیا کام کر دیتی ہے. ایف آئی اے جو کر رہی ہے مستقبل کے لیے یہ ٹرینڈ اچھا نہیں ہے ۔  ایف آئی اے اور حکومت کو ایک موقع دے رہے ہیں، جو کاروائیاں ہورہی ہیں ان سے متعلق تاثر ختم کریں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 27 ستمبر تک ملتوی کردی

No comments

leave a comment