09/25/2021

اسد طور کی ایف آئی اے میں دوبارہ طلبی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

Islamabad High Court update from June 1, 2021 | English story here.

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے گزشتہ ماہ صحافی اسد طور کو جاری ایک طلبی کا نوٹس معطل کئے جانے کے بعد انہیں دوسرا نوٹس جاری کرتے ہوئے 4جون کو طلب کر لیا۔ اسد طور نے ایف آئی اے کی جانب سے دوسرے نوٹس کو بھی چینلج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر کر دی ہے ۔۔ اسد طور کو ایف آئی اے کا دوسرا نوٹس نامعلوم افراد کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد موصول ہوا ہے ۔

اسد طور کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ 4جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے انہیں ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس معطل کیا تھا ، اور انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ(پیکا) کی سیکشن 20 کے بے دریغ استعمال سے اظہار رائے کی آزادی متاثر ہونے  جیسے سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے تھے۔ اسدر طور نے کہا ہے کہ عدالت کا یہ حکم اب بھی موجود ہے لیکن اس کے باوجود انہیں ایف آئی اے نے ایک اور نوٹس جاری کر دیا ہے جس پر جاری ہونے کی کوئی تاریخ درج نہیں ، انہیں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ وہ4جون کو سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر راولپنڈی  میں پیش ہوں ۔ اسد طور کا کہنا ہے کہ انہیں ایف آئی اے کی جانب سے موصول نوٹس میں کوئی الزام تک نہیں بتایا گیا۔۔اسد طور نے عدالت سے اس نوٹس کو بھی پہلے سے زیر سماعت کیس کے ریکارڈ کا حصہ بناکر ریلیف دینے کی استدعا کی ہے ۔ اسد طور نے اپنی درخواست میں وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کے علاوہ نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کی مارننگ شو کی میزبان شفا یوسفزئی کو بھی فریق بنایا گیا  ہے ۔۔ خیال رہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے اسد طور کو پہلا نوٹس مبینہ طور پر شفا یوسفزئی کی شکایت پر ہی موصول ہوا تھا جسے اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر رکھا ہے ۔

صحافی اسد طور کوایف آئی اے کی جانب سے نوٹس جاری کئے جانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلے ہی قانونی سوال اٹھا رکھا ہے کہ کیا سائبرا کرائم ایکٹ کی سیکشن 20کیا آئین سے متصادم نہیں ؟   معاملے پر سینئر وکیل حامد خان ، عابد حسن منٹو اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کوعدالتی  معاون بھی مقرر کر رکھا ہے ، عدالتی معاونین کی جانب سے  کل جواب جمع کرائے جانے کا امکان ہے ۔۔ عدالت نے ایف آئی اے کے نوٹس سنسرشپ کی بدترین مثال بھی قرار دیئے تھے

No comments

leave a comment