January 27, 2021

کووِڈ اسپیشل: جب آزادئ اظہار پر پابندی نے کورونا وائرس سے لڑتے ڈاکٹرز کی زندگیاں داؤ پر لگا دیں

فیصل آباد۔ یہ 25 مئی 2020ء کی رات کا پہلا پہرتھا جب فیصل آباد کے زیادہ تر شہری عید الفطر کے دوسرے دن کی گہما گہمی سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ فیس بک پر اپلوڈ کی گئی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی اور لوگوں نے واٹس ایپ اور فون پر رابطہ کر کے ایک دوسرے کو اس بارے میں آگاہ کرنا شروع کردیا۔

اس ویڈیو کو بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے ڈاکٹر لبیق افضل تھے جو اس وقت ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد میں ہاؤس آفیسر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

انہوں نے اس ویڈیو میں شہریوں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی تھی کہ ہسپتالوں میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں یکدم بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے اور ہسپتالوں میں اس حوالے سے دستیاب سہولیات کم پڑ رہی ہیں۔

ڈاکٹر لبیق افضل نے اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے لوگوں کو انسداد کورونا ایس او پیز پرعمل درآمد کرنے اور گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی تاکہ اس وباء کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے دستیاب سہولیات میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ کیا جاتا اور شہریوں کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا جاتا۔

تاہم جون میں سیکرٹری ہیلتھ پنجاب بیرسٹر نبیل احمد اعوان نے اس ویڈیو کو بنانے پر ڈاکٹر لبیق اور اس ویڈیو پر کمنٹ کرنے والے تین ڈاکٹرزمحمد ولید خالد، مدیحہ کیانی اور محمد ارسلان کو شوکاز نوٹس جاری کر کے ان کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔

اگلے دن محکمہ صحت نے ابتدائی انکوائری رپورٹ میں ڈاکٹر لبیق کی ویڈیو میں بتائی گئی باتوں کو حقائق کے برعکس قرار دے کراسے شہریوں اور طبی عملہ میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش قرار دیا اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کردی۔

ڈاکٹر لبیق افضل و دیگر ڈاکٹروں کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے لئے جاری کئے گئے نوٹس کا عکس

چاروں ڈاکٹرز کو سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئراینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن عامر حسین غازی کے سامنے پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ بعد ازاں ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اس ایشو پر ہڑتال اوراحتجاج کا اعلان کردیا جس پرایڈیشنل سیکرٹری نے زبانی سرزنش کے بعد ان ڈاکٹرز کے خلاف مزید کارروائی روک دی۔

یوں یہ معاملہ توحل ہوگیا تاہم اس اقدام سے جہاں دیگر ڈاکٹرز کی زبان بندی کروائی گئی وہیں عام شہریوں میں بھی شاید یہ خیال مزید پختہ ہونے کے امکانات بڑھ گئے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

آنے والے دنوں میں لوگوں نے کورونا سے بچاؤ کے اقدامات پرعمل درآمد کو نظراندازکرنے کا سلسلہ جاری رکھا اوراس کا خمیازہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو بھگتنا پڑا۔

اگلے دو ہفتوں کے دوران فیصل آباد میں 300 سے زائد ڈاکٹرز اور طبی عملے کے افراد کورونا وائرس کا شکار ہو چکے تھے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مئی میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں 55 ڈاکٹر اور طِبی عملے کےافراد کورونا وائرس سے متاثر ہوۓ تھے لیکن ان میں فیصل آباد کا ایک بھی ڈاکٹر یا طبی عملے کا رکن شامل نہیں تھا۔ تاہم دو ہفتوں بعد صورتحال یہ ہو چکی تھی کہ پنجاب میں کورونا کا شکار ہونے والے 878 ڈاکٹروں میں سے 304 یعنی 35 فیصد ڈاکٹر وہ تھے جو فیصل آباد کے سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

اسی دوران فیصل آباد کے سب سے بڑے سرکاری طبی مرکز الائیڈ ہسپتال کے گائنی وارڈ اور ہلالِ احمر ہسپتال برائے زچہ و بچہ میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی اس قدر تعداد کورونا وائرس کا شکار ہوئی کہ دونوں طبی مراکز کو کئی دن کے لیے بند کرنا پڑا۔

علاوہ ازیں اس عرصے میں کورونا وائرس سے متاثرہ شہریوں کی تعداد بھی 784 سے بڑھ کر2817 جبکہ مرنے والوں کی تعداد 40 سے بڑھ کر81 ہو چکی تھی۔

مئی 24 کو کورونا کے مریضوں کی تعداد

جون 10 کو کورونا کے مریضوں کی تعداد جس میں فیصل آباد میں مریضوں کی تعداد میں واضح اضافہ نظر آتا ہے

اس صورتحال میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لئے مخصوص کیے گئے جنرل ہسپتال غلام محمد آباد کے علاوہ الائیڈ ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کو علاج کے لئے داخل کرنا شروع کردیا حالانکہ ڈاکٹروں کے مطابق ان ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لئے درکار مخصوص طبی سہولیات موجود ہی نہیں تھیں۔

عوام کو تنبیہہ کرنے والی وائرل ویڈیو کے نتیجے میں جن ڈاکٹروں کو محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا ان میں سے ایک نے ڈیجیٹل رائٹس مانیٹر سے بات کرتے ہوۓ بتایا کہ ان کا واحد مقصد لوگوں کو اس وباء کی سنگینی سے آگاہ کرنا تھا تاکہ وہ ذمہ دارانہ طرزِعمل اختیار کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حالات یہ ہوچکے تھے کہآج کسی ساتھی ڈاکٹر کا کورونا ٹیسٹ پازٹیو آیا ہے تو کل کوئی سینئر یا ساتھ کام کرنے والا کورونا کا شکار ہو گیا، ہمارے ساتھ کام کرنے والے ڈاکٹر آہستہ آہستہ کم ہو کر گھروں میں قرنطینہ ہو رہے تھے یا وینٹی لیٹرز پر زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے لیکن عام شہری اس صورتحال سے مکمل آگاہی نہ ہونے کے سبب لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہےتھے“۔

ڈاکٹر، جن کا نام اس لئے ظاہر نہیں کیا جارہا کہ انہیں ان کی نوکری میں مزید سرکاری دباؤ سے محفوظ رکھا جاسکے، نے کہا کہ محکمہ صحت کے اعلی حکام نے ویڈیو پیغام اوراس پر ڈاکٹروں کے کمنٹس کو سمجھنے کی بجائے اس کاغلط مطلب لیا حالانکہ سوشل میڈیا پیغام دراصل عوام کےتحفظ اور محکمہ صحت کی مدد کی نیت سے شیئرکیا گیا تھا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ طرزعمل صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ چین میں بھی کورونا کے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ ریاست کی جانب سے اظہارِ رائے پر پابندی کو قراردیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ چین کے ووہان سنٹرل ہسپتال کے ڈاکٹر لِی وین لیانگ نے دسمبر 2019ء میں اپنے ساتھیوں کو کورونا وائرس وباء کے خطرے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

تاہم بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت چین میں حکام نے انھیں غلط اطلاعات اور افواہیں پھیلانے کا مرتکب قراردیا تھا اور ان سے انکے ”غیر قانونی اقدامات“ روکنے کے بیان پر دستخط کروانے کی کوشش کی تھی۔ فروری میں ڈاکٹر لی کورونا وائرس کا شکار ہوکرانتقال کرگئے تھے۔ تب تک کورونا کی سنگینی کی خبر عام ہوچکی تھی اورعوام نے ریاستی دباؤ کے باوجود ڈاکٹر لی سے کیے گئے سلوک پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر لی کی وفات کے بعد چائنیز حکام نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوۓ ان کے اہل خانہ سے معافی مانگی تھی۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد میں کورونا وارڈ کا ایک منظر فوٹو: نعیم احمد

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نعمان چوہدری کہتے ہیں کہ ڈاکٹر لبیق کے خلاف انکوائری کا اقدام حکومت کی طرف سے اپنی غفلت اور سہولیات کی بروقت فراہمی میں ناکامی کو چھپانے کی ایک کوشش تھی۔ ”یہ اقدام ہر لحاظ سے غلط تھا، ہر بندے کو اظہار رائے کی آزادی ہے۔ سیکرٹری ہیلتھ کا مؤقف تھا کہ سرکاری ملازم بیان نہیں دے سکتے حالانکہ قانون اورآئین میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے“۔

ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی ڈاکٹر لبیق کی ویڈیو گورنمنٹ کے خلاف نہیں تھی بلکہ وہ لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کہ اس اقدام سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز کی اپنی فیمیلز اور جاننے والوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ کورونا کی وباء میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور ڈاکٹرز جان بوجھ کر لوگوں کو اس مرض سے خوفزدہ کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ”ڈاکٹر لبیق کے خلاف اتنے سخت ایکشن کا واحد مقصد یہ تھا کہ دیگر ڈاکٹرز کو دباؤ میں لاکر خاموش کروا دیا جائے تاکہ وہ ہسپتالوں میں درکار طبی سہولیات کی فراہمی میں تاخیر پر آواز بلند نہ کرسکیں“۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا کی وباء کے آغاز میں جنرل ہسپتال غلام محمد آباد کو کورونا کے مریضوں کے علاج معالجے کے لئے مختص کئے جانے کے باوجود وہاں مناسب تعداد میں وینٹی لیٹرز اور آکسیجن سلنڈرز فراہم نہیں کئے گئے تھے۔ اس لئے جب کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں یکدم اضافہ ہوا تو انہیں دیگر سرکاری ہسپتالوں میں ریفر کیا جانے لگا اور اس سے ان ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز اور طبی عملہ بھی تیزی سے کورونا کا شکار ہونے لگا۔

انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد سےملحق اضلاع چنیوٹ، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور سرگودھا سے تعلق رکھنے والے کورونا کے زیادہ تر مریض بھی الائیڈ ہسپتال ریفر کئے جا رہے تھے جس کی وجہ سے ڈاکٹرز پر کام کا شدید دباؤ رہا جبکہ سہولیات کی عدم فراہمی یا صورتحال کی سنگینی پر آواز اٹھانے والوں کے خلاف پہلے ہی انکوائری شروع کر کے دیگر آوازوں کو بھی خاموش کروا دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر نعمان نے الزام لگایا کہ مئی میں عید الفطر کے بعد جب کورونا کی وباء اپنے عروج پر تھی تو ڈاکٹرز کو پہلے تین ہفتے میں کسی قسم کا حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اس دوران ڈاکٹرز کے پاس صرف وہی سامان تھا جو لوگوں کی طرف سے عطیہ کیا جا رہا تھا یا پھر وہ اپنی جیب سے خرچ کر کے پی پی ایز (یعنی ذاتی حفاظت کا لباس) اور این-95 ماسک خرید رہے تھے۔

یکم جون کو کورونا سے بچاو کا حفاظتی سامان نہ ملنے پر ڈاکٹرز فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر آفس کے باہر احتجاج کیلئے جمع ہیں فوٹو: نعیم احمد

واضح رہے کہ اس دوران حکومت کی پالیسی یہ تھی کہ کورونا سے بچاؤ کا حفاظتی سامان صرف ان ڈاکٹروں کو دیا جائے گا جو کورونا کے مریضوں کے لئے مختص وارڈز میں کام کرتے ہیں۔

سرکاری طریقہ کار کے مطابق کورونا سے بچاؤ کا حفاظتی سامان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی طرف سے براہ راست ڈویژنل کمشنرکو فراہم کیا جاتا تھا جو اسے آگے ڈپٹی کمشنرز کو مہیا کرتے تھے۔ یہاں سے اس سامان کی ہسپتالوں کو ترسیل کے لئے ہر ضلع میں خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں جو اپنی ہفتہ وار میٹنگز میں یہ طے کرتی تھیں کہ کس ہسپتال کو کتنا حفاظتی سامان فراہم کیا جائے گا۔

ڈاکٹر نعمان کہتے ہیں کہ ”یہ پالیسی درست نہیں تھی کیونکہ کورونا سے متاثر ہونیوالے ڈاکٹروں میں سے 60 فیصد سے زیادہ ایسے تھے جو ایمرجنسی وارڈز، اوپی ڈی اور گائنی وارڈز میں ڈیوٹی کے دوران وائرس کا شکار ہوئے تھے“ یعنی ایسے ڈاکٹرجو براہ راست کورونا مریضوں کی نگہداشت نہیں کر رہے تھے۔

بعدازاں اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے حکومت کو لاک ڈاؤن سمیت کئی سخت اقدامات کرنے پڑے جس کے بعد کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آنا شروع ہوئی۔

تاہم اب پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ شروع ہو گیا ہے اور حکومت کی طرف سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد اور سماجی میل جول کو محدود رکھنے کے مشورے دیئے جا رہے ہیں۔

لیکن اب بھی شہری حکومتی ہدایات پر کان دھرتے نظر نہیں آ رہے جس کی ایک وجہ شہریوں کا حکومتی معلومات اور دعووں پر عدم اعتماد قرار دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر نعمان کے مطابق کورونا وائرس کی نئی لہر کا آغاز ہو چکا ہے لیکن حکومت یا مقامی سطح پر اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کسی قسم کی تیاری نظر نہیں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے پہلا قدم تو یہ ہونا چاہیے کہ ہسپتالوں میں لوگوں کی آمد ورفت کو کم سے کم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہسپتالوں میں ٹیلی میڈیسن کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ ”70 فیصد لوگ صرف فری دوائی لینے کے لئے ہسپتال آتے ہیں اس لئےاگر ادویات کی فراہمی کا کوئی متبادل نظام قائم کر دیا جائے تو معمول کے مریضوں کو ٹیلی میڈیسن پر منتقل کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے“ ڈاکٹرنعمان نےکہا۔

کورونا وائرس کی دوسری لہر شروع ہونے کے باوجود ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں احتیاطی تدابیر پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے فوٹو: نعیم احمد

فیصل آباد میں وہ ڈاکٹر اور طبی عملہ جو کورونا سے متاثر ہوۓ ان میں گائنی کے شعبے سے منسلک افراد بھی شامل تھے۔

حلال احمر میٹرنٹی ہسپتال فیصل آباد کی ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر تحسین اسلم بتاتی ہیں کہ جب کورونا وائرس کی پہلی لہرآئی تو اس وباء سے متعلق آگاہی اتنی زیادہ نہیں تھی جس کی وجہ سے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں نے بھی زیادہ احتیاط کا مظاہرہ نہیں کیا اور ان کی بڑی تعداد کورونا کا شکار ہوگئی اور چند دن کے لئے ہسپتال میں کام بند کرنا پڑا۔ ”ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور دیگر طبی عملہ جس ماحول میں کام کرتا ہے اس کی وجہ سے ان میں قوت مدافعت ویسے ہی کمی ہوتی ہے تو اس لئے زیادہ لوگ اس سے متاثر ہوئے لیکن اب کافی بہتری آئی ہے۔ اب ہسپتالوں میں زیادہ لوگ ماسک پہنے نظر آتے ہیں لیکن بازاروں اور منڈیوں میں صورتحال پہلے جیسی ہی ہے“۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت کورونا سے بچاؤ کے لئے ہسپتال میں عمومی احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جا رہا ہے اور اگر کسی مریض میں کورونا کی علامات پائی جائیں تواسے جنرل ہسپتال غلام محمد آباد ریفر کر دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر تحسین کے مطابق کورونا کی دوسری لہر پہلی سے زیادہ خطرنا ک ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر حاملہ خواتین کے لئے کیونکہ انہیں قوت مدافعت میں کمی کا سامنا ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں حمل کے دوران خواتین میں خون جمنے کا عمل بڑھ جاتا ہےاس لئے اگر ایسی حالت میں کورونا کا حملہ ہوجائے تو وہ سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کومتاثر کرنے کے ساتھ ساتھ خون کے گاڑھا ہونے کے عمل کو بھی تیز کر دیتا ہےجس سے مریض کے جسم میں آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔

اس طرح ماں کے پیٹ میں بچے کو بھی آکسیجن اور خون کم ملتا ہے جس سے اس کی نشوونما پرفرق پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی حاملہ خاتون کورونا سے متاثر ہو جائے تو اسے فوری قرنطینہ کر کے اس کا بلڈ پریشراور آکسیجن لیول تسلسل کے ساتھ چیک کرتے رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

ڈاکٹر تحسین نے مشورہ دیا کہ موجودہ صورتحال میں حاملہ خواتین کوعوامی مقامات یا رش والی جگہوں پر نہیں جانا چاہیے بلکہ انہیں گھر میں بھی ماسک پہننا اور بھاپ لینی چاہیے۔ اس کے علاوہ انہیں ڈرائی فروٹس، تازہ پھلوں اور سوپ کا استعمال معمول بناتے ہوئے اپنی خوراک کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

کورونا وائرس کے حوالے سے فیصل آباد ڈسٹرکٹ فوکل پرسن ڈاکٹر آصف چنگیزی نے اس حوالے سے رابطہ کرنے پرکسی بھی قسم کی معلومات کی فراہمی یا سوالوں کے جواب دینے سے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں سیکریٹری ہیلتھ کی جانب سے کورونا کی وباء سے متعلق کسی بھی قسم کا انٹرویو دینے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر آصف کے مطابق ان کا کام صرف ڈسٹرکٹ کی سطح پر سامنے آنے والے مریضوں کا ڈیٹا صوبائی محکمہ صحت اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر(این سی او سی) کو فراہم کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کورونا سے متعلق ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات کے بارے میں بھی انہیں کوئی علم نہیں ہے۔

ڈاکٹر آصف سے جب انٹرویو نہ دینے کے حوالے سے کسی تحریر ی حکم نامے یا نوٹیفکیشن کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں سیکرٹری ہیلتھ کے دفتر سے زبانی احکامات جاری کئے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ تاحال پنجاب میں سرکاری ملازمین کے میڈیا سے بات کرنے پر پابندی کے حوالے سے کوئی تحریری حکم نامہ تو جاری نہیں کیا گیا ہے البتہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نے 17 اگست اور بلوچستان حکومت نے 29 اگست کو باقاعدہ طور پرتحریری حکم کے ذریعے سرکاری ملازمین پر اظہار رائے کے حوالے سے پابندیاں عائد کی تھیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد میں کورونا وارڈ کا ایک منظر فوٹو: نعیم احمد

نجی نیوز چینل کے رپورٹر حماد احمد اس وباء کے دوران فیلڈ رپورٹنگ کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی کورونا وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے اس پورے عمل کے عینی شاہد رہ چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سرکاری محکموں میں عام حالات میں بھی شہریوں یا میڈیا کو حقائق تک آسانی سے رسائی نہیں ملتی ہے اور نا ہی کسی سرکاری ملازم کی جانب سے حکومت یا اپنے محکمے پر تنقید کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔ ”کورونا وائرس کی وباء کے دوران یہ غیر اعلانیہ پالیسی اور بھی سخت کر دی گئی تھی۔ مقامی سطح پر کسی بھی قسم کی انفارمیشن کو میڈیا کے ساتھ شیئر کرنے سے سختی سے اجتناب کیا گیا اور میڈیا کا تمام تر انحصار این سی او سی کے ویب پورٹل پر دیئے گئے اعداد و شمار تک محدود رہا“ حماد نے بتایا۔

وہ کہتے ہیں کہ انفارمیشن اور آزادئ رائے کو کنٹرول کرنے کا ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ لوگوں نے افواہوں پر یقین کرنا شروع کر دیا اور آج یہ صورتحال ہے کہ حکومت کی بار بار تنبیہہ کے باوجود لوگ کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

حماد کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کے آغاز سے ہی حکومت کی طرف سے حقائق کو چھپانے اور اس حوالے سے بلند ہونے والی آوازوں کو دبانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اس رویے کی وجہ سے پہلے کورونا کے بارے میں سازشی نظریات کو فروغ ملا اور اب لوگ اس بارے میں خبروں کو سنجیدہ لینے کو تیار نظر نہیں آتے ہیں۔

اس حوالے سے ایک سیاسی رائے یہ بھی ہے کہ جب کورونا کی وباء اپنے عروج پر تھی تو حکومت اس بیماری کی شدت کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کرتی رہی ہے اور اب جبکہ اپوزیشن حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر چکی ہے تو لوگوں کو سڑکوں پر آنے سے روکنے کے لئے اس وباء کے پھیلاؤ کو جواز بنایا جا رہا ہے۔ یہ رائے بھی عوامی صحت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس کا اثر قبول کر کے لوگ کورونا وائرس کے بارے میں غیر سنجیدہ رویہ اپنا سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں پاکستان میں میڈیا اس وقت جس طرح کی سینسر شپ کی زد میں ہے اس کی وجہ سے حقائق تک شہریوں کی رسائی محدود ہوئی ہے اور ممکن ہے اس کے سبب لوگوں میں افواہوں پر اعتبار کرنے کا رجحان فروغ پا رہا ہو۔ یہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حقائق تک عدم رسائی اور آزادی اظہار پر پابندی ہنگامی حالات یا کووڈ 19 جیسی وباء میں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

فیصل آباد میں دس نومبر کو کورونا وائرس کی صورتحال فوٹو: نعیم احمد

فیصل آباد کے تین بڑے طبی مراکز الائیڈ ہسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور جنرل ہسپتال غلام محمد آباد انتظامی طور پر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفرعلی چوہدری کی زیرنگرانی ہیں۔

وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران حکومت، محکمہ صحت اور ڈاکٹرز کورونا کی وباء کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار نہیں تھے جس کی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم ان کا یہ دعوی ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کا مقابلہ کرنے کے لئے ہسپتالوں میں انتظامات بہت بہتر ہیں۔ ”کورونا کی پہلی لہر کا ہم مقابلہ کر چکے ہیں، ڈاکٹرز کی کورونا سے نمٹنے کی تربیت ہو چکی ہے اور اس حوالے سے طبی سہولیات میں بھی اضافہ ہوا ہے“ ڈاکٹرظفر نے کہا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت الائیڈ ہسپتال میں 250 اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں 50 آکسیجن بیڈزموجود ہیں۔ اس کے علاوہ آئی سی یو اور وینٹی لیٹرزبھی پوری طرح فعال ہیں جبکہ ادویات بھی وافرمقدار میں موجود ہیں۔ ”جب کورونا کی پہلی لہر آئی تھی تو ہمارے پاس ٹیسٹنگ کی سہولت موجود نہیں تھی لیکن اب بائیو سیفٹی لیول (بی ایس ایل) لیب فعال ہے جس میں روزانہ ایک ہزار کورونا ٹیسٹ کئے جا سکتے ہیں“۔

ایک سوال کے جوا ب میں ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر لبیق والے ایشو کو اظہار رائے کی آزادی سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کیونکہ پہلے ہی ختم ہو چکا ہے اس لئے وہ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اس پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

کورونا کی پہلی لہر کے دوران ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان کی فراہمی میں تاخیر سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پوری دنیا میں ہی یہ صورتحال تھی کہ پی پی ایز شارٹ ہو چکے تھےاور ترقی یافتہ ممالک بھی ایسے ہی حالات کا سامنا کر رہے تھے جیسے پاکستان میں درپیش تھے۔ ”جب کورونا کی پہلی لہر آئی تو اس کا خوف زیادہ تھا اس لئے جہاں لیول ون کےپی پی ایز چاہیے تھے وہاں لیول ٹو کے پی پی ایز استعمال ہوئے اور جہاں لیول تھری سے کام چل سکتا تھا وہاں لیول فور کے پی پی ایز فراہم کئے گئے لیکن اب ہم نے یہ سیکھا ہے کہ اگر وارڈز میں سوشل ڈسٹنسگ ، ماسک اور سینی ٹائزر کا استعمال یقینی بنایا جائے تو اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے“۔

انہوں نے کہا کہ اب مکمل حفاظتی لباس صرف کورونا وارڈ یا آپریشن تھیٹرمیں استعمال کئے جا رہے ہیں اور فیصل آباد کے ہسپتالوں میں اس وقت وافر تعداد میں پی پی ایز موجود ہیں۔

ڈاکٹر ظفر چوہدری کے مطابق کورونا کی پہلی لہر کے دوران ایمرجنسی وارڈ زاور گائنی وارڈز میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کے کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونےکی وجہ کووڈ سے نا واقفیت تھی۔

لیکن اب ڈاکٹروں کو اس بارے میں کافی تجربہ ہو چکا ہے جبکہ مریضوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ نہیں ہے ۔”اب ڈاکٹرز کو مریضوں میں کورونا کی علامات کا فوری پتہ چل جاتا ہے اورانہیں عام مریضوں سے فوری الگ کر لیا جاتا ہےاور ان کا ٹیسٹ کروایا جاتا ہے۔ پہلے ہسپتال میں کورونا ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں تھا اورنہ ہی ہمارے پاس وسائل تھے کہ ہر مریض کا کورونا ٹیسٹ کروایا جاتا لیکن اب کوئی آپریشن یا سرجری کورونا ٹیسٹ کروائے بغیر نہیں کی جاتی ہے“۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کورونا کی دوسری لہر کے دوران ہسپتالوں میں عام مریضوں کی آمدورفت محدود کرنے اور آپریشن یا سرجری کا سلسلہ عارضی طور پر معطل کرنے کے مطالبے پر ڈاکٹر ظفر کا کہنا تھا کہ اب کورونا سے ڈر کر ہسپتالوں کے آوٹ ڈور بند نہیں کئے جا سکتے ہیں کیونکہ امراض قلب، کینسر، نمونیا ، ذیابیطس اور بہت سے دیگر امراض کا فوری علاج نہ کیا جائے تومریضوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ”ہمارے لئے ہر مریض اتنا ہی اہم ہے جتنا کورونا کے مریض ہیں، اگر ہم اس ڈر سے آپریشن یا سرجری نہیں کریں گے کہ کہیں کورونا نہ ہوجائے توان کی موت کا ذمہ دار کون ہوگا“ ڈاکٹرظفرنے کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں کووڈ کے ساتھ زندہ رہنے کی عادت ڈالنا ہوگی اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

Written by

Naeem Ahmad is a journalist based in Faisalabad. He works as a senior subeditor for Sujag where he supervises local news coverage from the Faisalabad division.

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.