January 27, 2021

کووڈ اسپیشل: باجوڑ میں صحافی کورونا کے دوران مشکلات سے نبرد آزما

باجوڑ۔ کورونا وائرس نے ملک کے دیگرحصوں کی طرح خیبرپختونخواہ کے ضلع باجوڑ میں بھی ہر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا۔ باجوڑ میں 27 مارچ سے لیکر27 نومبرتک کورونا کے 665 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ گیارہ لاکھ آبادی والے اس ضلع میں دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرح صحافیوں کو بھی ان کی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں سرانجام دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اورکئی صحافی اس دوران کورونا وباء کی زد میں آئے۔

کووڈ پازیٹو اور نفسیاتی دباؤ

باجوڑ پریس کلب کے ممبراور روزنامہ پاکستان اور7 نیوزچینل سے وابستہ صحافی محمد یونس کورونا وباء کے دوران اپنی صحافتی سرگرمیوں میں پیش پیش تھے اورشاید یہی وجہ تھی کہ وہ خود بھی کورونا کا شکار ہوۓ۔

محمد یونس کہتے ہیں کہ انہوں نے کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد 22 دن قرنطینہ میں گزارے۔ ”یہ میری پیشہ وارانہ زندگی میں مشکل ترین دن تھے اور میں نے کبھی بھی اتنے دن کام کے بغیر نہیں گزارے تھے،“ یونس نے بتایا۔ ”ان دنوں نہ صرف میرا اپنے ادارے کے ساتھ رابطہ منقطع ہوا بلکہ اپنے پریس کلب کے ساتھ بھی رابطہ نہیں ہوتا تھا“۔

دراصل پریس کلب کے چار ممبران میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے پر پریس کلب کی عمارت کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ باجوڑ پریس کلب مقامی صحافیوں کے کام میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ضلع بھرمیں کام کرنے والے تقریباً پچاس صحافیوں میں سے 46 اس کے رکن ہیں۔ وہ معلومات کے تبادلے کیلئے باہمی رابطے اور انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات کے استعمال کیلئے پریس کلب کا رخ کرتے ہیں۔ کورونا کی روک تھام کے پیش نظر پریس کلب کو بند کرنا ضروری تھا لیکن اس سے اب مقامی صحافیوں پر صاف ظاہرہوگیا تھا کہ وہ کورونا کے سامنے کس قدرغیرمحفوظ تھے۔

Journalist Muhammad Younas on a reporting assignment. Photo: Shah Khalid

کوہ نورچینل کے رپورٹر احسان الله خان نے کہا کہ جب انکے صحافی دوست کورونا کا شکار ہوئے تو وہ سب ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئے تھے۔ “ہم نے اس سلسلے میں نفسیات کے ڈاکٹرز سے بھی رجوع کیا تھا اوران کی ہدایت پر عمل کرنے کی کوشش کی تھی،” احسان الله نے بتایا۔

ضلع باجوڑ میں موجود ماہر نفسیات ڈاکٹر رحمت اللہ نے بتایا کہ کورونا کے دوران ذہنی الجھن سے دوچار افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جہاں روزانہ کے بنیاد پر 10 سے 20 مریضوں کو دیکھتے تھے وہاں اب تعداد 40 سے 50 مریضوں تک پہنچ گئی ہے جس میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے۔

ڈاکٹر رحمت نے کہا کہ انہوں نے فیس بک پراپنا پیج بنایا تھا اور واٹس ایپ پرگروپ بنایا تھا جن پراکثرصحافی ان کے ساتھ رابطہ کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اکثرصحافی اس لئے بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے تھے کیونکہ وہ روزانہ بار بار ایک موضوع پر رپورٹنگ کررہے تھے اور دوسرے صحافی دوستوں کے ساتھ بھی اگر ملتے تھے تو بھی کورونا وباء کے موضوع پر بحث ہوتی تھی جس کے وجہ سے وہ مسلسل ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکاوٹ کا شکار ہو تے تھے۔ ڈاکٹر رحمت اللہ نے ایسی صورتحال میں صحافیوں کو احتیاطی تدابیر پرعمل پیرا ہونے اور ماہر نفسیات کے ساتھ رابطہ میں رہنے کی تاکید کی۔

احسان الله نے کہا کہ ان کے خاندان کی طرف سے بھی انکے اوپر دباؤ تھا کہ رپورٹنگ کو چھوڑدیں کیونکہ انکے والدین ضعیف العمراور بیمار ہیں تو ان کی صحت کا بھی خیال رکھنا تھا۔ روزانہ گھر جانے سے پہلے کپڑے بدلنا اور سینٹائزر وغیرہ کا استعمال بھی کرنا ہوتا تھا کیونکہ ہرجگہ ایک خوف کی فضا قائم تھی، احسان نے بتایا۔

ایسے حالات میں بھی صحافیوں نے اپنا کام جاری رکھا تاکہ لوگوں تک معلومات اور کورونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدبیر پہنچتی رہیں۔

رپورٹنگ میں مشکلات

انگریزی اخبار روزنامہ ڈان کے نمائندے انواراللہ خان نے بتایا کہ کورونا وباء کے دوران کام کرنے کی نوعیت ہی الگ تھی۔ ایک طرف فیلڈ میں جا کر خبر بنانی ہوتی تھی تو دوسری طرف لاک ڈاؤن جیسا تجربہ انہوں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔

آج نیوز کے رپورٹر حنیف اللہ جان نے کہا کہ وہ اوران کے دوسرے صحافی دوست اس طرح کی حالت کے لئے بالکل تیار نہیں تھے کیونکہ کووڈ 19 کے لئے لاک ڈاؤن اور ایس او پیز پر عمل کرنا ایک اچانک صورتحال تھی۔

حنیف الله نے بتایا کہ ایسے حالات میں صحافی گھروں سے کام کرنے لگے تھے۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں اکثر گھروں میں انٹرنیٹ کی وہ سہولت دستیاب نہیں ہے جو پریس کلب میں ہے۔ اگرچہ ہم معلومات کے حصول کے لئے تھری جی انٹرنیٹ کے ذریعے واٹس ایپ اور فیس بک استعمال کررہے تھے لیکن جب نیوز پیکج تیار کرتے تھے یا ان پیج سافٹ ویئر میں کوئی خبر کمپوز کرنی ہوتی تھی تو پھراس کوبنانے اوربھیجنے کے لئے کمپیوٹراورتیزانٹرنیٹ کنکشن کی ضرورت ہوتی تھی جوپریس کلب بند ہو جانے کی وجہ سے ہمیں میسر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سےانکے کام پر گہرا اثر پڑا تھا۔

Hanifullah Jan interviews a resident in Bajaur. Photo: Shah Khalid

ڈان کے نمائندے انواراللہ نے کہا کہ کورونا وباء کے دوران رپورٹنگ میں ایک مشکل یہ بھی تھی کہ ہسپتال ذرائع سے بروقت رابطہ نہیں ہو پاتا تھا اور جب رابطہ ہوتا تو ان کے پاس اپنے ہسپتال کے علاوہ باجوڑ میں موجود تمام کورونا مریضوں کے بارے میں اعداد و شمار نہیں ہوتے تھے جو ہماری خبروں کے لئے ضروری تھے۔ اسی طرح مقامی انتظامیہ کے فوکل پرسن کی فون کال نہیں ملتی تھی اور اگر مل بھی جاتی تو ان کے پاس بھی پورے ضلع باجوڑ کا ڈیٹا نہیں ملتا تھا جس کی وجہ سے خبر بنانے میں تاخیر ہوتی تھی۔

حنیف الله نے بھی کہا کہ کورونا وائرس کے بارے میں معلومات ہمیں شام پانچ بجے کے بعد ملتی تھی جبکہ خبرکی ڈیڈلائن تب تک گزر چکی ہوتی تھی جس وجہ سے ہم بروقت سٹوری فائل نہیں کر سکتے تھے۔

احسان اللہ جو سوشل میڈیا پر باجوڑ تیز نیوز کے نام سے ایک ویب چینل بھی چلا رہے ہیں کے مطابق ان جیسے ٹی وی رپورٹرز کو پرنٹ رپورٹرز کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہیں فیلڈ میں جا کر ویڈیو فوٹیج بنانا ضروری ہوتی تھی اور کورونا وائرس کی وباء کے دوران تو بعض اوقات جائے وقوعہ تک پہنچنا ناممکن ہو گیا تھا۔

احسان اللہ نے بتایا ”ایک طرف ہمارے نیوز چینل ہم سے لائیو بیپر مانگ رہے تھے اور دوسری طرف ہمارا جائے وقوعہ پر جانا اور لوگوں سے بات کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ قرنطینہ کی وجہ سے لوگ سماجی فاصلہ اور دوسرے ایس او پیز پر عمل کررہے تھا اور کورونا میں مبتلا مریضوں تک بھی ڈاکٹررسائی نہیں دیتے تھے جبکہ آفیسرز سے بھی بروقت رابطہ اور ان کو لائیو لینا مشکل ہوتا تھا اوراکثران کے فون بند ملتے تھے“۔

Ihsanullah interviews residents in Bajaur. Photo: Shah Khalid

احسان اللہ کے مطابق ہمیں اکثر کورونا وباء سے جاں بحق لوگوں کے بارے میں ہسپتال ذرائع سے مستند خبر ملتی تھی کہ فلاں شخص کورونا وباء سے وفات پا چکا ہے لیکن جاں بحق شخص کے خاندان والوں سے فون کالز آتے تھے کہ اس خبرکو نہ چلاؤ کیونکہ اس سے ہماری بد نامی ہوتی ہے اور پھر ہمارے جاں بحق بندے کے جنازے میں کوئی شرکت نہیں کرتا، تو یہ دباؤ بھی ہوتا تھا۔

اس سلسلے میں لاک ڈاؤن کے دوران کورونا سے صحت یاب ہونے والے صحافی یونس کو بھی کئی مشکلات پیش آئی تھیں جن میں صحافیوں کے کورونا وباء سے بچاؤ کے لئے مطلوبہ حفاظتی ساز و سامان کا نہ ہونا، جائے وقوعہ تک پہنچنے کیلئے ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، بجلی کی بے پناہ لوڈ شیڈنگ اورمتعلقہ سرکاری آفیسرز سے بروقت رابطہ نہ ہونا چند بڑے مسئلے تھے۔

سرکاری ردعمل

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال خار باجوڑ کے میڈیکل سپیشلسٹ اور کورونا آئسولیشن وارڈ کے انچارج اور فوکل پرسن ڈاکٹر فضل الرحمن نے بتایا کہ انہوں نے بھرپور کوشش کی تھی کہ صحافیوں کو بروقت اور مستند معلومات فراہم کریں کیونکہ اس نئی بیماری کے بارے میں لوگوں میں شعور پیدار کرنے میں میڈیا کا ایک اہم کردار تھا اور ہے۔

Dr Fazlur Rahman (left) checks a patient in Bajaur DHQ. Photo: Shah Khalid

لیکن ڈاکٹر فضل نے کہا کہ ابتداء میں ہمیں بھی کچھ مشکلات تھیں جس میں کورونا سے بچاؤ کی کٹس، مریضوں کے لئے وینٹیلیٹر کا نہ ہونا وغیرہ شامل ہے لیکن پھران مشکلات پر قابو پالیا گیا تھا۔ ڈاکٹر فضل الرحمن نے مزید بتایا کہ دوپہر 2 بجے تک وہ وارڈ میں ہوتے تھے تو اس وقت تک میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ ان کا رابطہ نہیں ہو پاتا تھا۔ اس کے بعد وہ مطلوبہ ڈیٹا اکٹھا کر کے پھراس کو مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ شیئر کرتے تھے تو اس وجہ سے معلومات دینے میں کبھی کھبی تاخیر ہوتی تھی لیکن پھر بھی اگرصحافی ہمیں کال کرتے تھے تو ہم ان کو مطلوبہ معلومات دیتے تھے اور اب بھی دے رہے ہیں۔ لیکن کچھ صحافی کورونا کے دوران چاہتے تھے کہ وہ آئسولیشن وارڈ میں کرونا مریضوں سے ملے تو ان کو ہم نے اجازت نہیں دی تاکہ ان کو انفیکشن نہ ہو جائے۔

ضلع باجوڑ انتظامیہ کے کووڈ فوکل پرسن ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر زمین خان نے کہا کہ وہ باجوڑ کے تمام صحافیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور نہ صرف ان کے ساتھ فون کال پر معلومات شیئر کر تے تھے بلکہ اس کے لئے ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنایا تھا اور اس میں لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ دیتے تھے۔

زمین خان جو خود کورونا کے باعث 14 دن قرنطینہ میں رہے نے بتایا کہ انہوں نے بذات خود باجوڑ کے ہر علاقے میں لوگوں کو کورونا سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی دی تھی اور کرونا مریضوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی۔ جو بھی ڈیٹا اان کو ملا تو اس کو باجوڑ کے صحافیوں اور مختلف حکومتی اداروں کے ساتھ شیئر کرتے تھے اوراب بھی کر رہے ہیں۔

Additional Comissioner Bajaur Zamin Khan in his office. Photo: Shah Khalid

انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں تمام سرکاری محکموں کے آفیسرز کے لئے انشاء اللہ جلد وہ معلومات تک رسائی کے قانون پر ایک آگاہی سمینار کا انعقاد کرینگے جس پر صحافیوں کو بھی مدعو کرینگے۔ ہر ڈپارٹمنٹ میں فوکل پرسن تعینات کرنے کے لئے بھی کوشش کرینگے تاکہ صحافیوں کو مطلوبہ معلومات بروقت مل سکیں، زمین خان نے بتایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مطلوبہ معلومات انکے سوشل میڈیا پیجز اور واٹس ایپ گروپ پر بھی دستیاب ہیں۔

اگرچہ مقامی انتظامیہ اور ہسپتال کے حکام نے واٹس ایپ گروپ بنایا تھا جس میں وہ معلومات شیئرکرتے تھے جس سے صحافیوں کو آسانی ہوتی تھی۔ لیکن یونس نے کہا کہ زیادہ ترمشکلات سیاسی رہنماؤں سے رابطوں میں پیش آتی تھیں۔ ہم ان سے کسی خبر میں ان کا مؤقف لینا چاہتے تھے لیکن مسلسل کوشش کے باجود بھی ان سے رابطہ نہیں ہو پاتا تھا، یونس نے بتایا. جبکہ ان کے ورکرزاورعام لوگ بھی چاہتے تھے کہ ان کےعلاقےکے رہنماء ان کے سامنے آئیں اور کچھ پیغام دیں لیکن ان رہنماؤں کے موبائل نمبرز اکثر بند آتے تھے۔

خبریں جو شائع نہ ہوئیں

احسان اللہ نے کہا کہ کورونا وائرس وباء کے دوران ان کے چینل کے نیوز روم کے سٹاف میں بھی کمی کی گئی تھی جس سے کبھی رپورٹ بروقت نشر نہیں ہوتی تھی اور انکے ویورز باجوڑ میں انتظار کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کے بارے میں تو میری خبریں نشر ہوتی تھیں کیونکہ وہ تو ایمرجنسی کی خبریں تھیں لیکن سیاسی اور دیگر سماجی ایشوز جیسا کہ روڈ، پانی کے مسائل پر خبریں نشر نہیں کی گئیں۔

حنیف کے مطابق جب کووڈ  19کے دونوں میں کسی دوسری سٹوری پر کام کرتے تھے تو اس کے لئے مطلوبہ معلومات حاصل کرنا بھی مشکل تھا کیونکہ زیادہ تر دفاتر میں آفیسرز 50 سال سے اوپرعمرکے تھے اور وہ چھٹیوں پر ہوتے تھے کیونکہ کورونا کے خطرے کے پیش نظر انہیں گھر رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آر ٹی آئی قانون کے تحت معلومات لینے کے لئے انہوں نےکئی درخواستیں مختلف دفاتر میں جمع کیں لیکن ان کو مطلوبہ معلومات نہیں ملی۔ انہوں نے ذکر کیا کہ ایک درخواست محکمہ تعلیم میں معلومات حاصل کرنے کے لئے دی تھی لیکن اب تک مجھے اس کا جواب نہیں ملا کیونکہ اس وقت پچاس سال سے زائد عمر کا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کووڈ 19 کی وجہ سے چھٹیوں پر تھا اور اسی وجہ سے انکی خبر کی ڈیڈلائن ختم ہوگئی جس کی وجہ سے انہیں معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

انوارالله نے کہا کہ اخبارت کے صفحات بھی کم کیے گئے تھے جس کے وجہ سے ہماری دیگر خبریں جو کورونا وباء کے علاوہ تھیں وہ اکثر شائع ہونے سے رہ جاتی تھیں جو ہم نے بڑی محنت سے بنائی ہوتی تھیں اور جس کی وجہ سے ہم کبھی کبھی دل برداشتہ بھی ہو جاتے تھے۔ کیونکہ لوگ ہم سے خبر کے بارے میں پوچھتے تھے۔ انوار نے کہا کہ میں نے ایک سٹوری باجوڑ کے گرڈ سٹیشن کے بارے میں بنائی تھی کہ باجوڑ میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ گرڈ سٹیشن مکمل ہو چکا ہے لیکن کئی ڈیڈلائنز گزر جانے کے باوجود اس کا ابھی تک افتتاح نہیں ہوا اور اس کو فعال نہیں کیا جارہا۔ اس سٹوری پر میں نے بہت محنت کی تھی اور باجوڑ کے لوگ بھی چاہتے تھے کہ اس پر کوئی خبر ڈان اخبار میں لگے تاکہ اس گرڈ سٹیشن کو حکام بالا فعال کریں لیکن وہ سٹوری نہیں چھپی تھی اور لوگ اس بارے میں معلومات سے محروم ہوگئے تھے۔

Journalist Anwarullah Khan writing a news report. Photo: Shah Khalid

انہوں نے کہا کہ اب بھی اس وباء کا خطرہ موجود ہے تو اس کے لئے مکمل منصوبہ بندی کرنی چاہیے تاکہ ہر شعبہ سے وابستہ افراد اپنے کام اچھے طریقے سے سرانجام دیں خصوصی طور پر صحافی کیونکہ صحافی کو ایسے حالات میں فوری اور مستند معلومات درکار ہو تی ہے تاکہ وہ معاشرے میں موجود لوگوں کی صحیح سمت میں رہنمائی کرتے رہیں۔

یونس نے کورونا وباء کے دوران اپنے کام کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے عام لوگوں تک صحیح معلومات پہنچانے کے لئے اپنی بھر پور کوشش کی تھی تاکہ لوگوں کو بروقت معلومات دیں سکیں۔ خبر کے تصدیق کے لئے انہوں نے ہراس ادارے سے معلومات کے حصول کے لئے رابطہ کیا جو اس خبرکی تصدیق کے لئے اہم اور ضروری ہوتا تھا۔

لیکن اس دوران عوام کو کورونا کے متعلق بہت سی جھوٹی اورغلط معلومات بھی پہنچ رہی تھیں۔

عوامی معلومات تک رسائی اور کورونا وائرس پر جھوٹی معلومات

صحافیوں نے بتایا کہ پورے صوبے میں ٹرانسپورٹ کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے باجوڑ میں اخبارات آنے کا سلسلہ بھی بند ہو گیا تھا تو اس سے ریڈرشپ پر بھی نمایاں اثر پڑا تھا اور عوام معلومات سے بھی کسی حد تک محروم ہوۓ تھے۔

یوتھ آف باجوڑ کے چیئرمین اور سوشل ورکر انجینئر ریحان زیب خان نے بتایا کہ وہ خبروں کے حصول کے لئے سوشل میڈیا اور مختلف نیوز ٹی وی چینلز کے بلیٹن کو بھی وقت دیتے ہیں۔ ریحان زیب نے بتایا کہ کورونا وباء کے دوران جھوٹی اورغلط معلومات بھی بہت زیادہ تھیں جس میں کبھی یہ تمیز کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ یہ خبر سچ ہے کہ جھوٹ۔

انہوں نے کہا کہ ایسے موقعوں پر وہ خود تحقیق کرتے تھے اور اگر انہیں حقائق کا کوئی سراغ ملتا تو وہ سوشل میڈیا پیج یا چینل کو کال کر کے مطلع کر دیتے تھے تاکہ لوگوں میں افراتفری نہ پھیلے۔

Social worker Rehan Zeb Khan speaks during a press conference at the Bajaur press club. Photo: Shah Khalid

ریحان زیب نے اس بارے میں مین سٹریم میڈیا کی ایک مثال دی کہ ایک نجی نیوز چینل نے پشاور میں چالیس کی بجائے غلطی سے چار سو زائرین میں کورونا کی تصدیق کی خبر دے دی۔ انہوں نے کہا کہ اس خبر سے نہ صرف پشاور میں بلکہ باجوڑ کے لوگوں میں بھی خوف وہراس پھیلا کیونکہ باجوڑ کے بہت سے لوگ پشاور میں کاروبار کرتے ہیں اور وہاں پر رہائش پذیر بھی ہیں۔

لیکن ریحان زیب نے کورونا وباء کے دوران صحافیوں کے کردار کو بھی سراہا کہ انہوں نے فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کو پتہ ہے کس محنت سے ایک صحافی ایک خبر کے لئے تحقیق کرتا ہے لیکن عام لوگوں کو یہ پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر جعلی خبریں پھیلاتے ہیں جو اچھی بات نہیں ہے۔ کیونکہ اس طرح کی نیوز پھیلانے سے لوگوں کا صحافت سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

Written by

Shah Khalid (Shah Jee) is a journalist based in district Bajaur. He works as a senior reporter for the Kadam Pa Kadam radio programme. He also writes for the Tribal News Network, Waziristan Times, Ferozaan Karachi, and Peshawar Today.

No comments

Sorry, the comment form is closed at this time.