January 23, 2021

یوٹیوب ، فیس بک،ٹوئٹر پاکستان میں دفتر کھول دیں تو اچھا ہوگا، اسلام آباد ہائیکورٹ

Islamabad High Court Update from January 5, 2021

اسلام آباد ہائیکورٹ  نے منگل کے روز نیٹ فلیکس پر پاکستان میں مستقل پابندی عائد کرنے کے لئے دائر درخواست پر پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کو نئے سوشل میڈیا رُولز عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے دو ہفتوں میں سوشل میڈیا پر متنازعہ مواد کی اشاعت روکنے سے متعلق اقدامات کی رپورٹ بھی دو ہفتوں میں طلب کر لی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ یوٹیوب ، فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پاکستان میں دفاتر کھول دیں تو اچھا رہے گا ، متنازعہ مواد پر ان سے جواب طلبی بھی کی جا سکے گی۔ پی ٹی اے کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ یو ٹیوب کا پاکستان میں دفتر کھلوانے کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ پی ٹی اے وکیل نعیم اشرف ایڈوکیٹ کی جانب سے عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ یوٹیوب پر موجود کوئی مواد ہم خود بلاک نہیں کر سکتے ، صرف یو ٹیوب کو لکھ کر آگاہ کرتے ہیں۔

درخواست گزار تنظیم شہدا فاونڈیشن کی جانب سے طارق اسد ایڈوکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ گستاخانہ فلم نیٹ فلیکس پر ریلیز کی جا رہی ہے ۔ پی ٹی اے کو چائیے تھا فلم کا ٹریلر آتے ہیں نیٹ فلیکس پر اسی طرح پابندی عائد کی جاتی جیسے 2011 میں یو ٹیوب پر کی گئی تھی ۔اس پر پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیٹ فلیکس پر نہیں ، بیسٹ نیٹ فلیکس نامی ویب سائٹ پر فلم کا ٹریلر ریلیز ہوا تھا اُس ویب سائٹ سے بھی رابطہ کیا جا چکا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست عدالت میں آنے سے پہلے ہی پی ٹی اے تمام سوشل میڈیا فورمز سے متنازعہ مواد ہٹانے کے لیے رابطہ کر چکا تھا ۔

درخواست میں وزارت اطلاعات کو بھی فریق بنایا گیا تھا لیکن عدالت نے قرار دیا کہ جب کوئی متنازعہ مواد انٹرنیٹ پر موجود ہو تو اس پر پی ٹی اے نے ہی نظر رکھنی ہے، وزارت اطلاعات کا اس سے تعلق نہیں بنتا ۔ عدالت نے پی ٹی اے کو سوشل میڈیا رُولز کی کاپی اور متنازعہ مواد بلاک کرنے سے متعلق اقدامات کی رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ عدالت نے جن سوشل میڈیا رُولز کی کاپی پی ٹی اے سے طلب کی ہے ان کی آئینی حیثیت اسی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے ہی چار درخواستوں کے ذریعے چیلنج کی جا چکی ہے۔ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے پی ٹی اے سے پچیس جنوری تک جواب طلب کر رکھا ہے کہ آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق سے متصادم رُولز کیسے بنائے جا سکتے ہیں اور رُولز بنانے سے پہلے تمام فریقین کی رائے کیوں نہیں لی گئی۔

No comments

leave a comment