October 1, 2020

ڈی آر ایم خصوصی تحریر: سابقہ فاٹا میں انٹرنیٹ کی بندش ۔ آن لائن کلاسز اور تعلیم کے حق میں رکاوٹ

Illustration by Aniqa Haider

Read English version of this story here.

جب سے دنیا میں کرونا کی وبا آئی ہے، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تمام تعلیمی ادارے بند ہیں ۔ ساتھ ہی  بڑی مشکلوں سے کھولے گئے شمالی وزیرستان کے سکول بھی بند ہو چکے ہیں ۔ ملک بھر سے کالج اور یونیورسٹیوں کے طلباء کی ایک اچھی خاصی تعداد اپنے گھر وزیرستان آئی ہو ئی ہے ۔ لیکن حال ہی میں حکومت نے آن لائن کلاسز کا جو اعلان کیا ہے اس کے بارے میں وزیرستان کے بیشتر نوجوانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ کیونکہ اگر حکومت واقعی میں آن لائن کلاسز شروع کرتی ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ وزیرستان کے طلباء اس سے استفادہ نہیں کرسکیں  گے ۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وزیرستان میں اس  جدید دور میں حال ہی میں ایک دو پرائیویٹ سیلولرکمپنیوں نے میرعلی اور میرانشاہ کے علاقوں میں موبائل سروس مہیا کی ہے لیکن انٹر نیٹ کا تصور ابھی تک وہاں نہیں پہنچا ہے ۔ سرکاری جگہوں پر کہیں کہیں پر لینڈ لائن سے انٹرنیٹ مل سکتا ہے لیکن دورِ جدید کے تھری جی اور فور جی کا اس علاقے میں ابھی تک دور دور تک پتہ نہیں۔ اس لئے وزیرستان کے طلباء کو آن لائن کلاسز سے کوئی فائدہ ملنے کی توقع نہیں ۔ 

شاید اسی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے یوتھ اف وزیرستان کےزیر سایہ آج ایک بار وزیرستان کے نوجوان طلباء نے میرعلی میں پاببندیوں کے باوجود تھری جی اور فورجی کی فراہمی کیلئے مظاہرہ کیا ۔ 

مظاہرے میں شریک سرگودھا یونیورسٹی سے زوالوجی میں ماسٹر کرنے والے ایک مقامی قبائلی طالب علم نے پوچھنے پر کہا ” ہمارے پاس اور کوئی راستہ ہی باقی نہیں رہا کیونکہ اگر پورے ملک کے طلباء آن لائن پڑھینگے تو ہم تو پیچھے رہ جائینگے۔ ہم کہاں سے یہ کمی پوری کرینگے ؟”

شمس الدین نامی اس طالب علم نے کہا کہ انہوں نے بڑی مشکلوں سے یہاں تک تعلیم حاصل کی ہے اور وہ کسی طور یہ نہیں چاہتے کہ “ملک کے دیگر حصوں کے لوگ تو ان لائن تعلیم حاصل کریں اور ہم منہ تکتے رہ جائیں” ۔ 

” ا” شمس الدین نے اپنی کہانی اگے بڑھاتے ہوئے کہا ۔ ماضی میں جب حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جس کے قریب جو بھی سکول ہو وہ داخلہ لے سکتا ہے جس سے میں نے بھی فائدہ اٹھایا اور بنوں میں ایک سکول میں داخلہ لیا اور آج شکر ہے میں ماسٹرز کر رہا ہوں لیکن آج ایک بار پھر میرے سامنے تاریکی ہی تاریکی ہے کیونکہ ہمیں انٹرنیٹ تو کیا ابھی تک رابطے کیلئے کوئی بھی ذریعہ نہیں دیا جارہا” ۔ 

” مجھے تو یوں لگتا ہے کہ شاید حکومت چاہتی نہیں کہ ہم تعلیم حاصل کریں ورنہ انٹرنیٹ کی فراہمی کوئی بڑا مسئلہ تو ہے نہیں ” شمس الدین کہتا رہا اور میں سنتا رہا کیونکہ ان کی باتوں کا میرے پاس کوئی جواب ہی نہیں تھا ۔ 

شدت پسندی کی حالیہ لہر سے پہلے شمالی وزیرستان میں بنیادی ضروریات اتنی بھی ابتر نہیں تھی ۔ نوجوانوں میں تعلیم کے حصول کا گویا ایک قسم کا مقابلہ چل رہا تھا ۔ علاقے میں ٹیلیفون کی اچھی خاصی نیٹ ورک موجود تھی ۔ بازار آباد تھے اور تعلیمی اداروں میں روز افزوں اضافہ ہورہا تھا لیکن پھر اچانک طالبان آگئے جس نے سب کچھ تباہ کرکے رکھ دیا ۔ 

مظاہرے میں شریک ایک اور مقامی طالب علم، جس کا تعلق ایک قریبی گاؤں زیرکی سے تھا، نے بتایا، ” میرے گھر میں ڈیجیٹل ٹیلی فون موجود تھا لیکن طالبان نے دن دیہاڑے ہمارے گاؤں کے کیبل کو ٹریکٹر سے باندھ لیا اور کھینچ کر نکال لیا جس سے ہمارے گاؤں کی لائن ختم ہو گئی اور نکالے گئے کیبل کو انہوں کباڑ میں بیچ دیا ۔ تب سے اب تک ہمارے ہاں ٹیلیفون یا دیگر کوئی ذریعہ موجود نہیں “۔ ۔ انہوں نے نام کو خُفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ شاید حکومت خود بھی چاہتی تھی کہ لوگوں سے رابطے کا یہ ذریعہ چھین لیں کیونکہ دن دیہاڑے کیبل کو کھینچ کر بیچنے والے افراد کو کسی نے اُف تک نہ کہا حالانکہ سبھی کو معلوم تھا کہ مجرم کون ہے ۔ 

یوتھ اف وزیرستان کے مظاہرین نے کرونا کی وجہ سے ماسک لگائے ہو ئے تھے اور فاصلہ رکھنے کی بے سود کوشش بھی کر رہے تھے لیکن پھر شاید وہ ان پابندیوں کو برقرار نہ رکھ پائے اور میرعلی چوک میں جلسے کی شکل میں جمع ہو ئے ۔ جس سے یوتھ اف وزیرستان کے سابق صدر نور اسلام داوڑ نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر علاقے کو انٹرنیٹ کی سہولت دی جائے ۔

نور اسلام نے اس طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ضرب عضب کے بعد بڑی مشکلوں سے ہمارے بچوں نے تعلیمی عمل شروع کی تھی کہ اوپر سے سکول بند ہو ئے جو کہ مجبوری ہے لیکن انٹرنیٹ کی فراہمی میں کون سی رُکاوٹ ہے ۔ 

سال 2014 میں جب اپریشن ضرب عضب شروع ہوا تو شمالی وزیرستان کے ایک لاکھ سے زائد طلباء و طالبات کا تعلیمی سلسلہ بھی رُک گیا ۔

اس بارے میں ایک مقامی صحافی احسان داوڑ نے ایک ویب سائٹ کو لکھے گئے ایک مضمون میں کہا تھا کہ شمالی وزیرستان کے ایک لاکھ دس ہزار طلباء سکولوں اور کالجوں سے باہر ہو چکے ہیں جن میں سے اکثر نے تعلیم کو چھوڑ کر محنت مزدوری شروع کردی ہے ۔ 

احسان داوڑ کہتے ہیں، ” اسی دن سے جس دن سے ضرب عضب شروع ہوا ہے اب تک ہمارا تعلیمی نظام سنبھل نہ سکا اور ایک پوری نسل تعلیم سے محروم ہوچکی ہے ، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ کسی کو اس عظیم نقصان کا احساس تک نہیں ہے “۔

گوکہ اس وقت کے ایجوکیشن افیسر گل سید خان نے کہا تھا کہ اپریشن کے باعث 86 ہزار طلباء سکولوں سے باہر ہیں لیکن کاغذی کاروائیوں اور میڈیا پر اعلانات کے علاوہ شمالی وزیرستان کے ان طلباء کو سکولوں میں داخل کروانے اور ان کے ٹوٹے ہوئے تعلیمی سلسلے کو ایک بار پھر جوڑنے کیلئے کسی نے سنجیدگی سے کوشش نہیں کی ۔ 

مظاہرے میں یوتھ کے دیگر نوجوان رہنماؤوں نے بھی انٹرنیٹ کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ۔ یوتھ کے موجودہ صدر اسداللہ شاہ نے کہا کہ ہم کس طرح دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کر سکے گے جبکہ ہم ابھی بنیادی حقوق جیسے کہ تعلیم ، معلومات تک رسائی ، اظہار رائے اور صحت کیلئے آئے روز احتجاج کرتے رہتے ہیں جبکہ ریاست کو ہماری مشکلات کا احساس تک نہیں ” ۔ 

ایک اور نوجوان سماجی کارکن سنید احمد نے کہا کہ یہاں حکومت تھری جی فور جی نہیں بلکہ ہاں جی اور ناں جی چاہتی ہے ۔ یہاں آزاد شہریوں کے بجائے اپنی  معمولی ضروریات کیلئے قطاروں میں کھڑے بے بس و لاچار لوگوں کی ایک آبادی چاہئے جو اپنے حقوق کیلئے بھیک مانگے نہ کہ احتجاج کریں ۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ اور موبائل سے لوگوں میں شعور آجاتا ہے جبکہ حکومت ہمیں جاہل ہی رکھنا چاہتی ورنہ کیا امر مانع ہو سکتی ہے کہ ہمیں ہمارے بنیادی حقوق نہیں دئے جا رہے ۔ 

شمالی وزیرستان میں تعلیمی زبون حالی کوئی ڈھکی چھُپی بات نہیں اور اس ہی سلسلے میں وقتاً فوقتاً انٹر نیٹ اور موبائل کی باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں ۔ اس بارے میں بحیصیت مقامی صحافی، ریڈیو فری یورپ کے پشتو برانچ مشال ریڈیو کے نمائندے اور وزیرستان یونین اف جرنلسٹس کے صدر کے حیصیت سے کہنا چاہونگا کہ وزیرستان میں لوگوں کی معلومات تک رسائی کا واحد ذریعہ ریڈیو ہے جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اخبارات پڑھتے ہیں لیکن وہ تب جب انہیں اخبار ملے ۔ 

” ایک اندازے کے مطابق 90 فیصد لوگ یہاں خبروں کیلئے ریڈیو کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ یہاں معلومات تک رسائی کا کو ئی اور ذریعہ ہے ہی نہیں ۔ اس میں مثال کے طور پر آج کل کی صورتحال میں کرونا کو ہی لیجئے جس کے بارے میں وزیرستان کے ایک دور دراز کے علاقے میں ایک عمر رسیدہ قبائلی کو بھی کرونا کے بارے میں مکمل معلومات ہیں لیکن اس کے معلومات کا ذریعہ ریڈیو کے علاوہ کوئی اور نہیں ” اپنے ہی علاقے میں ایک سروے کے دوران میں نے معلوم کیا کہ لوگوں میں کرونا کے بارے میں آگاہی ہے لیکن وہ دنیا کے دیگر علاقوں کی طرح ٹیلی ویژن یا سوشل میڈیا نہیں بلکہ ریڈیو ہے ۔ 

 ہم جب بھی انٹرنیٹ کے حوالے سے رپورٹنگ کرتے ہیں تو مقامی افسران سے اس بارے میں ان کا موقف معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ صحافتی اصولوں کو پورا کر سکیں  لیکن اکثر اس بارے میں انہیں کوئی ٹھوس جواب نہیں ملتا ۔ 

” یہاں یہ ایک قسم کا رواج بنا ہوا ہے کہ قبائلی علاقوں میں متعین افسران میڈیا سے زیادہ بات نہیں کرتے ۔ ہم نے جب بھی سرکاری موقف کیلئے کسی کو کال کی ہے ، اس بارے میں ہمیں کوئی واضح جواب نہیں ملا ہے ، اس کے پیچھے کونسا راز ہے مجھے نہیں معلوم لیکن کچھ لوگ اس کی وجہ سیکورٹی کو قرار دے رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں علاقے کے حالات ابھی اتنے مستحکم نہیں ہوئے۔ ”  

شمالی وزیرستان یا دیگر قبائلی علاقوں میں دو ڈھائی سال پہلے تک ملک کے دیگر علاقوں سے الگ ایک انگریزی سامراج کے زمانے کا قانون ایف سی ار یعنی فرنٹئیر کرائمز ریگولیشنز رائج تھا جس میں ساتوں قبائلی ایجنسیوں میں پولیٹیکل ایجنٹس کو متعین کئے جاتے تھے جن کے پاس بے شمار اختیارات ہوا کرتے تھے اور وہ آزادی سے اپنے ان اختیارات کا استعمال بھی کرتے تھے ۔ 

وزیرستان یونین اف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری احسان داوڑکہتے ہیں، ” یہاں بنیادی انسانی حقوق کا کوئی تصور نہیں تھا ۔ اپکو وہی حقوق ملتے تھے جو پولیٹیکل ایجنٹس کی مرضی کے مطابق ہوتے تھے ۔ اس لئے قبائلی علاقے اب تک چند بہت ہی بنیادی اسائشات سے محروم رہے ہیں جن میں انٹرنیٹ بھی ایک ہو سکتا ہے ” ۔ 

ان کا مزید کہنا تھا، ” دو ڈھائی سال پہلے گوکہ قبائلی علاقوں کو باقاعدہ پاکستان کا حصہ بنایا گیا اور پاکستان کے آئین کو یہاں تک رسائی بھی دی گئی لیکن حالات میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ہے ۔ اس کی وجہ شاید ابھی تک یہاں شدت پسندی کے اثرات ہو سکتے ہیں یا پھر ہوسکتا ہے کہ کوئی دیگر وجہ ہو لیکن لوگ اب پہلے سے زیادہ باشعور ہوچکے ہیں اور ان کی توقعات بھی زیادہ ہو چکی ہیں اس لئے اب لوگ اپنے مطالبات کیلئے پُرامن احتجاج کرتے رہتے ہیں جو لوگوں میں بڑھتی ہو ئی آگہی کی ایک نشانی ہے”۔ 

 موجودہ صورتحال میں جبکہ پوری دنیا کرونا کے حوالے سے شدید تشویش کا شکار ہیں شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں اس حوالے سے اتنی زیادہ آگہی موجود نہیں کیونکہ یہاں لوگوں کو معلومات اس طریقے سے نہیں مل رہے جیسے کہ ملک کے دیگر علاقوں کے لوگوں کو ملتی ہیں جہاں ہر ایک کے ہاتھ میں انڈرائیڈ فون ہے جس میں 3 جی اور فورجی بھی موجود ہو اور لمحہ لمحہ انہیں معلومات ملتی رہتی ہو ۔ گل زمان شمالی وزیرستان کے ایک دور دراز علاقے مداخیل کا رہائشی ہے جو ایک مقامی سکول میں استاد ہے اور پشاور یونیورسٹی سے تاریخ میں ماسٹر کرچکے ہیں وہ اس بارے میں کہتے ہیں کہ،

میں اگر ریڈیو سنوں تو کچھ نہ کچھ معلومات ملتی ہے اور اگر مجھے ریڈیو سننے کو وقت نہ ملے تو پھر میں دنیا کے حالات” کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتا کیونکہ میرے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ حکومت کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کیونکہ ہم بھی ایسے ہی ترقی چاہتے ہیں اور معلومات تک رسائی ہمارا بھی بنیادی حق ہے اس لئے انٹرنیٹ کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔” گل زمان بتا تے ہیں، ” میں جب یونیورسٹی میں ہوتا ہوں تو پل پل کی خبریں ملتی رہتی ہیں لیکن جب گھر آجاتا ہوں تو دنیا سے میرا واسطہ برائے نام رہ جاتا ہے۔” وہ مزید کہتے ہیں کہ اگر یہاں انٹر نیٹ موجود ہو تو ہم بھی اطلاعات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں ۔ 

وزیرستان میں کرونا وائرس کے بارے میں ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران ایک مقامی محمد دراز نے بتایا کہ کرونا سے بچاو کے سلسلے میں اس نے مکمل احتیاطی تدابیر اپنائی ہوئی ہیں ، لیکن مقامی لوگوں میں اس کے حوالے سے ٹھوس معلومات کی عدم موجودگی کے باعث ایک شخص نے اسے ہاتھ ملایا، گلے لگایا اور بعد میں اسکے منہ پر پھونک ماری، کہا کہ اپکا ایمان کمزور ہے، مطلب کہ کرونا اب بھی بیشتر لوگ ایک مزاق اور سازش سمجھتے ہیں۔ 

ایک نوجوان زاکیم خان جس نے گاوں کی سطح پر نوجوانوں کی ایک تنظیم بنائی ہے، سروے کے دوران بتایا کہ انہیں کرونا وباء کے بارے معلومات ہے، نوجوانوں نے چندے اکٹھے کئے ہے، گلیوں میں سینیٹائزرز بنا کر باقاعدہ لوگ آکر اسے ہاتھ دھوتے ہیں، لیکن بقول انکے یہاں علماء بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں اگر علماء مسجدوں میں لوگوں کو صحت کے ماہرین کی بتائی ہوئی احتیاطی تدابیر کی تلقین کرے۔

ایک مقامی ملک عثمان نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اقدامات پر انھوں نے عمل کیا ہے، جرگوں میں کمی لائی ہے، لیکن روایات سخت ہیں کوئی اسکے لئے تیار نہیں کہ مصافحہ چھوڑ دیں، اگر سوشل میڈیا تک رسائی ہو، تو لوگ خاص طور پر دیہاتوں میں تازہ ترین صورتحال سے باخبر ہونگے، اور ممکن ہے کہ لوگ احتیاطی تدابیر اپنائیں۔،

قبائلی علاقوں میں گذشتہ دو دہائیوں سے شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لوگوں کے رویوں اور ان کے نفسیات پر گہرے اثرات مرتب ہو ئے ہیں کیونکہ اس دوران ایک نسل انہی حالات میں پلی بڑھی ہے ۔ یہ وہ نسل ہے جو بیک وقت دور جدید اور ایف سی ار کے اثرات کو ساتھ ساتھ لئے ہو ئے ہیں ۔ حکومت کو شاید اس بات کا احساس نہیں کہ اس نسل کو شدت پسندی کے اثرات سے نکالنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہو نگے جس میں انٹرنیٹ جیسے دور جدید کی سہولت کی فراہمی شاید تعلیمی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ معلومات تک رسائی کیلئے ایک اشد ضرورت بن چکی ہے جس کو جتنی جلدی یہاں تک رسائی دی جائے اتنی ہی بہتر ہو گی کیونکہ جلد یا بدیر انٹرنیٹ کو یہاں پہنچنا تو ہے کہ دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکا ہے اور اب اس میں دور افتادہ یا ناقابل رسائی جیسے الفاظ کا تصور معدوم ہوچکا ہے ۔

اس آرٹیکل کو لکھنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کا نوٹس لیتے ہوئے تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ کی بحالی کا آرڈر جاری کیا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی پاکستانیوں کا بنیادی حق ہے جو کہ آزادی رائے سے منسلک ہے۔ 

Written by

Umar Daraz Wazir is a journalist, and the President of Waziristan Union of Journalists.

No comments

leave a comment