January 23, 2021

نیٹ فلیکس کو مستقل بند کرنے کی درخواست پر حکومت ، پی ٹی اے کو نوٹس جاری

Islamabad High Court Update from January 4, 2020

پاکستان میں نیٹ فلیکس کو مستقل طور پر بند کرنے کے لئے دائر کی گئی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے وزارت اطلاعات و نشریات کو عدالت پیشی کے لئے نمائندہ مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ۔

آج پیر کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے شہدا فاونڈیشن پاکستان کی جانب نیٹ فلیکس کو مستقل طور پر بند کر دینے کے لئے دائر درخواست پر سماعت کی ۔ درخواستگزار تنظیم کی جانب سے طارق اسد ایڈوکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ نیٹ فلیکس پرگستاخانہ فلم  ریلیز کی جارہی ہے جس میں اسلامی اقدار کی خلاف ورزی اور مقدس ہستیوں کی توہین کی گئی ہے۔ فلم کے ٹریلز یوٹیوب، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیاویب سائٹس پر بھی نشر کئے جا رہے ہیں لیکن پی ٹی اے کی جانب سے اسے روکنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا رہا ۔

درخواست میں عدالت سے یہ  استدعا بھی کی گئی ہے کہ فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کو چھ ماہ کے اندر فرنچائز کھولنے کی ہدایت کی جائے اور ایسا نہ کرنے پر انہیں بھی بند کر دیا جائے ۔دوسری جانب پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کی جانب سے پہلے ہی فیس بک، انسٹا گرام ، ٹوئٹر اور یوٹیوب سے فلم کے ٹریلر ہٹانے کے لئے رابطہ کیا جا چکا ہے ۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ توہین آمیز مواد والے 336 یو آر ایل پہلے ہی مختلف فورمز پر رپورٹ کئے جا چکے ہیں ۔ پی ٹی اے کی جانب سے ہائیکورٹ کو اپنے اقدامات سے متعلق منگل کے روز باقاعدہ آگاہ کیا جائے گا ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہی پی ٹی اے کے رُولز کیخلاف چار مختلف درخواستیں بھی زیر سماعت ہیں جن میں پی ٹی اے کی جانب سے کوئی بھی مواد از خود حذف یا بلاک کرنے کے اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے

No comments

leave a comment