November 24, 2020

مولانا خادم رضوی کی آمد اور اسلام آباد روالپنڈی میں انٹرنیٹ کی بندش

English version of the story here.

مولانا خادم رضوی اپنی جماعت تحریک لبیک کے کارکنوں کے ساتھ لیاقت باغ سے فیض آباد تک تحفظ ناموسِ رسالت مارچ کے پیش نظر  حکومتِ پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی روشنی میں موبائل فون کے کمپنیز نے روالپنڈی ریجن میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت بند کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں بھی صارفین کو ان سروسز سے محروم کر دیا۔

 حکومت پنجاب کے 14 نومبر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب پولیس کی درخواست پر پورے روالپنڈی ریجن بشمول ضلع  اٹک ، ضلع چکوال اور ضلع جہلم میں  15 نومبر کو صبح چار بجے سے لیکر رات نو بجے تک موبائل فون سروسز بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اسلام آباد میں موبائل فون سروسز کی بندش کے احکامات کہاں سے آئے تھے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق موبائل سروس کی بندش صرف نومبر 15 تک تھی، جبکہ نومبر 16 کو اس رپورٹ کے لکھنے کے وقت تک سروسس بحال نہیں کی گئیں۔

مولانا خادم رضوی نے اپنے کارکنوں کے ساتھ پندرہ نومبر کو لیاقت باغ سے فیض آباد تک  تحفظ ناموس رسالت مارچ کا اعلان کیا تھا اور اس موقع پر روالپنڈی اسلام آباد میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے اور جگہ جگہ کنٹینرز لگا کر سڑکیں بند کی گئی تھیں جس کی وجہ سے جڑواں شہروں کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment