September 20, 2020

“صحافیوں کو تنواہوں کی ادائیگی کے مسائل کے حل کے لیے کوئی قانون موجود نہیں” ۔ سینٹ کمیٹی

February 3, 2020 –

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس سینٹر فیصل جاوید کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں میڈیا مالکان کی نمائندگی شکیل مسعود میر ابراہیم اور مہتاب خان کررہے تھے جبکہ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر بہزاد سلیمی اورسیکرٹری جنرل ایم بی سومرو نے صحافیوں کی نمائندگی کی۔

اجلاس میں ایس ای سی پی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایس ای سی پی میڈیا کمپنیوں کی رجسٹریشن دیکھتی ہے، تنخواہوں کے معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ رکن قائمہ کمیٹی سجاد حسین طوری نے ایس ای سی پی حکام سے سوال کیا کہ جو کمپنیاں تنخواہ ادا نہیں کرتیں ان سے پوچھنا کسں کا کام ہے؟ ایس ای سی پی حکام کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس آڈٹ رپورٹس ہر سال جمع ہوتی ہے جو کمپنی آڈٹ جمع کراتی ہے اگر وہ تنخواہ نہیں دیتی تو ہم کچھ نہیں کرسکتے ۔

سینٹر فیصل جاوید نے ایس ای سی پی حکام سے سوال کیا کہ اگر کوئی میڈیا ادارہ تنخواہ نہ دے تو ایس ای سی پی کیا کرسکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ایس ای سی پی ہمارے سامنے ایسا کوئی قانون نہیں لارہا کہ تنخواہ نہ دینے کی کوئی پینلٹی ہے۔ اس موقع پر ایس ای سی پی حکام کا کہنا تھا کہ میڈیا اور دیگر کمپنیوں کے اداروں کے نفع و نقصان کی رپورٹ تو دے سکتے ہیں تنخواہوں کا نہیں بتاسکتے۔ میڈیا کی تنخواہوں کا معاملہ ان اداروں کا اندرونی معاملہ ہے۔

اس موقع پر نمائندہ اے پی این ایس مہتاب احمد خان اور نمائندہ پی بی اے میر ابراہیم کا کہنا تھا کہ تنخواہیں ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ اور یہ درست ہے کہ بہت سے میڈیا اداروں میں حالات کے باعث تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں۔  ایک پلان کے تحت میڈیا کو دبایا جارہا ہے۔ میر ابراہیم کا کہنا تھا ایک ہم سے تو ایس ای سی پی ریکارڈ مانگا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے میڈیا ادارے پچاس فیصد ریٹرنز فائل کرتے ہیں۔ بتائیں شوگر سمیت باقی سیکٹرز نے کتنے ریٹرنز فائل کئے؟ حکومت نے اشتہارات کا ریٹ 65فیصد کم کیا 70فیصد اشتہارات کم کردیئے۔ چھ ارب حکومتوں نے میڈیا کے دینے ہیں اور اس میں ابھی سندھ حکومت شامل نہیں۔ اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی فیصل جاوید نے کہا کہ وزارت اطلاعات نے تو رقم کئی گنا کم بتائی ہے۔آپکو پرائیویٹ اشتہارات سے بھی تو پیسے ملتے ہیں اس سے تنخواہ تو دے سکتے ہیں۔ اس وقت ایس ای سی پی اور پیمرا کے پاس کارکنان کو تنخواہ دلوانے کا کوئی قانون نہیں اور تنخواہوں کے لئے قانون بنانا پڑے گا۔

نمائندہ پی بی اے شکیل مسعود نے کمیٹی کو بتایا کہ پرائیویٹ اشتہارات سے بھی تو پیسے ملتے ہیں اس سے تنخواہ تو دے سکتے ہیں۔ اس وقت نجی اشتہارات 33فیصد کم ہوگئے جبکہ دو اداروں پر اشتہارات بند کردیئے گئے ہیں۔ حکومت بقایاجات دے ہم تنخواہیں دینے کو تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کے حق میں لکھیں اور اشتہار لے لیں: صدر نیشنل پریس کلب

صدر پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن بہزاد سلیمی نے کمیٹی اجلاس میں کہا کہ جہاں اشتہارات کم ہوئے ہیں وہاں کارکنان کی تنخواہیں بھی بیس سے چالیس فیصد کم کردی گئی ہیں ۔ میڈیا تنظیمیں میڈیا اداروں کی ترقی چاہتی ہے مگر تنخواہوں کی ادائیگی پر اب کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں پہلے بھی بقایاجات میڈیا مالکان کو ملے مگر عموماً پیسے ادا نہیں کئے گئے اب ایک ہاتھ سے چیک میڈیا مالکان کو دیں دوسرے ہاتھ سے کارکنان کو تنخواہ کا چیک دلوائیں ۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment