August 5, 2020

سوشل میڈیااور یو ٹیوب پر قابل اعتراض مواد کے خلاف سپریم کورٹ کے نوٹسسز جاری

Read English version of the story here / انگریزی ترجمہ ادھر پڑھیں

سپریم کورٹ نے سوشل میڈیااور  یو ٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت خارجہ اور اٹارنی جنرل کو نوٹسسز جاری کر دئیے۔

سپریم کورٹ نے نوٹس فرقہ وارانہ کیس کے ملزم شوکت علی کی ضمانت کے مقدمے میں لیا۔ ۲۲ جولائی کو ہونے والی سماعت کے دوران قاضی امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی یو ٹیوب پر چاچا ماما بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ ہمارے خاندانوں تک کو نہیں بخشا جاتا۔ ان کا کہنا تھاکہ
ہمیں آزادی اظہار رائے سے کوئی مسئلہ نہیں، عوام کے پیسے سے تنخواہ لیتے ہیں، ہماری کارکردگی اور فیصلوں پر عوام کو بات کرنے کا حق ہے، لیکن نجی زندگی کا حق بھی ہمیں آئین دیتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایف آئی اے اور پی ٹی اے نے دیکھا ہے یوٹیوب پر کیا ہورہا ہے؟ کل ہم نے فیصلہ دیا اور وہ یوٹیوب پر شروع ہوگیا، ہم تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں،لیکن آخر اس کا اختتام تو ہونا ہے۔ 

اس موقع پر پی ٹی اے حکام نے موقف اختیار کیا کہ
ہم انفرادی مواد کو ہٹا نہیں سکتے، صرف رپورٹ کرسکتے ہیں۔  جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دئیے کہ
کئی ممالک  میں یوٹیوب بند ہے، امریکا اور یورپی یونین کے خلاف مواد یوٹیوب پر ڈال کر دکھائیں،جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آرمی عدلیہ اور حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسایا جاتا ہے۔ انہوں نے  پی ٹی اے حکام سے استفسار کیا کہ ایسے جرم کے مرتکب کتنے لوگوں کے خلاف کارروائی ہوئی؟ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ   کئی ممالک میں سوشل میڈیا کو مقامی قوانین کے تحت کنٹرول کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنے ایک ٹویٹ میں پی ٹی اے اور عدالتوں کو مورل پولیسنگ اور پابندیوں کی اپروچ سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ ایپس پر اس طرح کی پابندیاں پاکستان کی ٹیکنالوجی انڈسٹری کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں گی۔ اپنے ٹویٹ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ججز کی  معاشی معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی کے برے اثرات سے پاکستان ابھی تک باہر نہیں نکل سکا ۔  تباہی کر دیں گی۔

Written by

Muhammad Arslan is a journalist and a team member of Media Matters for Democracy. He writes regularly on issues related to media freedom, regulation, and digital rights.

No comments

leave a comment