November 30, 2020

اسلام آباد، راولپنڈی میں دوسرے روز بھی موبائل کی بندش جاری، شہری شدید مشکلات کا شکار

English version of the story here.

اسلام آباد، ۱۶ نومبر ۲۰۲۰۔  اسلام آباد اور راولپنڈی میں دوسرے روز بھی وقفے وقفے سے موبائل فون کی بندش جاری ہے۔ موبائل نیٹورک پندرہ نومبر ۲۰۲۰ کو تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے مارچ اور دھرنے کے سبب بند کیا گیا تھا۔   

پنجاب حکومت نے اس مارچ کے پیش نظر روالپنڈی ریجن میں 15 نومبر کو صبح چار بجے سے رات نو بجے تک موبائل سروسز بند کرنے کے احکامات جاری کئے تھے جسے بعد میں 16 نومبر کی صبح چھے بجے تک بڑھا دیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے راولپنڈی ریجن کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں بھی یہ سروسز بند کر دیں تھیں ۔ تاہم مقرر کئے گئے وقت کے بعد بھی جڑواں شہروں میں موبائل فون سروس پوری طرح بحال نہیں کی جا سکی۔  

ایک ایسے وقت میں جب کرونا کی وجہ سے زیادہ تر کام موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کا محتاج ہو کر رہ گیا ہے ان سروسز کی بندش نے جڑواں شہروں کی اذیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

بغیر موبائل گھر سے کام کیسے؟

ملک بھر میں کورونا کی دوسری لہر کے سبب کئی آفسوں میں گھر سے انٹرنیٹ کے ذریعے کام کی پالیسی دوبارہ نافز کر دی گئی ہےاور آفس سے باہر کام بہتر طرقیے سے کام کرنے لے لئے پیشہ ورافراد کے لئے موبائل فونز کا استعمال لازم ہے۔ ایسے میں موبائل فونز سروسز کی بندش لوگوں کے لئے کئی مسائل کا سبب بن رہی ہے۔ 

سلوی رانا ایک وکیل ہیں اور موبائل سروسز کی اس بندش کو لیکر کافی غصے میں ہیں۔ ان کے بقول ” کرونا کی وجہ سے گھر سے کام کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور سارا کام آن لائن ہوتا ہے لیکن جب موبائل سروسز ہی نہیں ہیں تو کیا کام اور کون سا کام ہو سکتا ہے۔ اب ان حالات میں بندہ آفس بھی کیسے جا سکتا ہے نا کریم چل رہی ہے اور نہ اوبر ۔ اس ریاست کے پاس ہر مسئلے کا حل موبائل فون سروسز کی بندش میں ہے۔ 

طالب علموں پر اثرات

 کرونا کی وجہ سے یونیورسٹیز بھی آن لائن ایجوکیشن کو ترجیح دے رہیں ہیں اور موبائل فون سروسز کی بندش سے اساتذہ اور طالب علموں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے ۔ واجد ذولقرنین ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں اور موبائل فون سروسز کی اس بندش کی وجہ سے کافی پریشان دکھائی دئیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کرونا کی وجہ سے بچوں کا بہت تعلیمی نقصان ہو چکا اور اب موبائل فون سروسز کی بندش سے رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی۔ اور جس طرح تحریک لبیک نے دھرنا دیا ہے ان کا خدشہ ہے کہیں 2017 والے دھرنے کی طرح کے حالات نہ ہو جائیں۔

محمد مزمل قائیداعظم یونیورسٹی میں بیچلرز کے طالب علم ہیں اور یونیورسٹی ہوسٹل میں رہائش پذیر ہیں۔ اور ان کے لیے سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے ان کا اپنے گھر والوں دو دن سے رابطہ نہیں ہو پایا۔ مزمل کے مطابق یونیورسٹی ہوسٹل میں فراہم کردہ انٹرنیٹ کی سہولیات تو بالکل ہی فارغ ہیں اور اسی وجہ سے وہ موبائل ڈیٹا استعمال کرتے ہیں اور دو دن سے وہ بھی بند ہے۔ باہر کے حالات سن کر یونیورسٹی سے نہیں نکلے کہ کہیں پھنس ہی نہ جائیں ۔ اب گھر والوں سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آ رہا ۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر مسئلے کا حل موبائل فون سروسز کی بندش میں تلاش نہ کرے۔

ایک اور پریشانی

انعم لودھی اور ان کے خاوند دونوں صحافت کے شعبے سے منسلک ہیں۔ انعم حاملہ ہیں اور ان کے شوہر دھرنے کی کووریج کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔ انعم کا کہنا ہے کہ ایسی حالت میں اپنے شوہرسے رابطہ بالکل منقطع ہو جانا ان کے لئے شدید پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ 

اس سٹوری کے لکھنے تک موبائل فون سروسز کچھ علاقوں میں جزوی طور پر بحال ہوئی ہیں۔جب کہ بہت سے علاقوں میں ابھی بھی موبائل سروسز بند ہیں۔

No comments

leave a comment